Naik Bandoun Aur Bandiyoun Ki 8 Hikayaat

’’تہجد گزار‘‘ کے آٹھ حُروف کی نسبت سے نیک بندوں اور بند یوں کی 8حکا یا ت

(۱)ساری رات نَماز پڑھتے رہتے 

حضرت ِ سیِّدُنا عبدالعزیزبن روادعلیہ رحمۃ  اللہ    الجواد رات کو سونے کے لئے اپنے بستر پر آتے اوراس پر ہاتھ پھیر کر کہتے  :   ’’تُو نرم ہے لیکن اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی قسم! جنَّت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا  پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے ۔‘‘(  اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج ۱ ص ۴۶۷)  اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے
 ہماری مغفِرت ہو۔       
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
بالیقین ایسے مسلمان ہیں بے حد نادان
جو کہ رنگینیٔ دنیا پہ مرا کرتے ہیں

(2)شہد کی مکّھی کی بِھنبِھناہٹ کی سی آواز!

مشہور صحابی حضرتِ سیِّدُناعبد اللہ    ابنِ مسعود    رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   جب لوگوں کے سوجانے کے بعد اُٹھ کر قِیام (یعنی عبادت)فرمایا کرتے تو ان سے صبح تک شہد کی مکھی کی سی بھنبھناہٹ سُنائی دیتی۔    (  اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج۱ص۴۶۷)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔  
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
محبت میں اپنی گما یا الہٰی
نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی

(3)میں جنَّت کیسے مانگوں !

حضرتِ سیِّدُناصِلَہبن  اَشْیَم علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الاکرمساری رات نَماز پڑھتے۔  جب سحری کاوقت ہوتا تو اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ     کی بارگاہ میں عرض کرتے ، الہٰی ! میرے جیسا آدمی جنّت نہیں مانگ سکتا لیکن تو اپنی رَحمت سے مجھے جہنَّم سے پناہ عطا فرما۔‘‘ (  اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج۱ص۴۶۷)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے 
صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الہٰی

(4) تمہارا باپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے!

حضرت ِ سیِّدناربیع بنخُثَیمرَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بیٹی نے آپ رحمۃ للہ   تَعَالٰی  علیہسے عر ض کی  :   ’’ابّا جان! کیا وجہ ہے کہ لوگ سو جاتے ہیں اورآپ نہیں سوتے ؟ ‘‘ تو ارشاد فرمایا  :   ’’ بیٹی !تمہارا باپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے جو اچانک رات کو آجائے۔‘‘(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۱ ص ۵۴۳، رقم ۹۸۴ )اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔  
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
گرتُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی
ہائے!میں نارِجہنَّم میں جلوں گا یا رب!

(5)عبا دت کیلئے جاگنے کا عجیب انداز

حضرتِسیِّدُنا صَفْوان بن سُلَیم  رَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج گئی تھیں ۔آپ   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بالفرض آپ   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے کہہ دیا جاتا کہ کل 
قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے(یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے لئے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی)۔ جب سردی کا موسم آتا تو آپ   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  مکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپ   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سونہ سکیں (کیوں کہ A.C.کُجا ان دنوں بجلی کا پنکھا بھی نہ ہوتا تھا!)۔ سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔ آپ دعا کیا کرتے تھے  :    اے اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    ! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں توبھی میری ملاقات کو پسند فرما ۔ ‘‘ (اِتِّحَافُ السَّادَۃُ الْمُتَّقِیْن بِشَرْحِ اِحْیَائُ عُلُوْمِ الدِّیْن ج۱۳ ص۲۴۷، ۲۴۸)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
عفو کر اور سدا کیلئے راضی ہو جا
گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یا رب!

(6)روتے روتے نابینا ہوجانے والی خاتون

حضرتِ سیِّدنا خواص  رَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ہم رحلہ عابدہ کے پاس گئے۔یہ بکثرت روزے رکھتی تھیں اوراتنا روتیں کہ ان کی بینائی جاتی رہی اوراتنی کثرت سے نمازیں پڑھتی کہ کھڑی نہ ہوسکتی تھیں ، لہٰذا بیٹھ کر ہی نماز پڑھتی تھیں ۔ ہم نے انہیں سلام کیا پھر اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کے عَفو وکرم کا تذکِرہ کیا تاکہ ان پر معاملہ آسان 
ہو جائے۔ انہوں نے یہ بات سن کر ایک چیخ ماری اورفرمایا  :   ’’ میرے نفس کا حال مجھے معلوم ہے اور اس نے میرے دل کوزخمی کردیا ہے اور جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، خدا کی قسم! میں چاہتی ہوں کہ کاش !اللّٰہ     عَزَّ وَجَلَّ    نے مجھے پیداہی نہ کیا ہوتا اورمیں کوئی قابلِ ذکر شے نہ ہوتی ۔‘‘ یہ فرما کر دوبارہ نَماز میں مشغول ہو گئیں ۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج۵ ص۱۵۲ملخصاً)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ      کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
آہ سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا

(7)موت کی یاد میں بھوکی رہنے والی خاتون

حضرتِ سیِّدتُنا مُعَاذَ ہ عَدَوِیَّہ رحمۃُ  اللہ    علیہا  روزانہ صبح کے وَقت فرماتیں  :    ’’(شاید) یہ وہ دن ہے جس میں مجھے مرنا ہے۔‘‘ پھر شام تک کچھ نہ کھاتیں پھر جب رات ہوتی توکہتیں ، ’’(شاید) یہ و ہ رات ہے جس میں مجھے مرنا ہے۔‘‘ پھر صبح تک نَماز پڑھتی رہتیں ۔ (اَیضاًص۱۵۱  )اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
مِرا دل کانپ اٹھتا ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے
کرم یا رب اندھیرا قبر کاجب یاد آتا ہے

(8)گریہ وزاری کرنے والا خاندان

حضرتِ سیِّدنا قاسم بن راشد شیبانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کہتے ہیں کہ حضرت ِ سیدنا زَمعہ رَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ مُحَصَّب میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ رَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زوجہ اوربیٹیاں بھی ہمراہ تھیں ۔آپ رَحْمَۃُ  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ رات کو اٹھے اوردیر تک نَماز پڑھتے رہے۔ جب سَحری کا وقت ہوا تو بُلندآواز سے پکارنے لگے  :   ’’ اے رات میں پڑاؤ کرنے والے قافِلے کے مسافِرو !کیا ساری رات سوتے رہوگے ؟ کیا اٹھ کرسفر نہیں کروگے ؟‘‘ تو وہ لوگ جلدی سے اٹھ گئے اورکہیں سے رونے کی آواز آنے لگی اورکہیں سے دعا مانگنے کی ، ایک جانب سے قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز سنائی دی تو دوسری جانب کوئی وُضو کر رہا ہوتا ۔پھر جب صبح ہوئی تو آپ رحمۃ اللہ      تَعَالٰی  علیہنے بلند آواز سے پکارا  :    ’’ لوگ صبح کے وقت چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں ۔‘‘ (کِتَابُ التَّہَجُّدْ وَقِیَامُ اللّیْل مَع موسُوْعَہ اِمَام ابْنِ اَبِی الدُّنیا ، ج ۱، ص۲۶۱ رقم۷۲)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت   عَزَّ وَجَلَّ    کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
مرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ
انہیں خلد میں بسانا مدنی مدینے والے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ   تَعَالٰی  علیٰ محمَّد


Naik Bandoun Aur Bandiyoun Ki 8 Hikayaat
Naik Bandoun Aur Bandiyoun Ki 8 Hikayaat

Post a Comment

0 Comments