Namaz -e- Ishraaq Aur Us Ka Waqt

نمازِاِشراق

دو فرامَینِ مصطَفٰے   صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       :  (۱)جونَمازِ فجر با جماعت ادا کرکے ذکرُ اللہ    کرتا رہے یہاں تک کہ آفتاب بُلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو اسے پورے حج و عمرہ کاثواب ملیگا۔(سُنَنُ التِّرْمِذِی، ج۲، ص۱۰۰حدیث۵۸۶)(۲) جو شخص نِمازِ فجر سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مُصلّے میں ( یعنی جہاں نماز پڑھی وہیں ) بیٹھا رہا حتّٰی کہ اِشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے تو اُس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر چِہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں ۔(سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد  ج۲ص۴۱حدیث ۱۲۸۷ )
حدیثِ پاک کے اس حصّے ’’ اپنے مصلّے میں بیٹھا رہے‘‘ کی وضاحت کرتے ہو ئے حضرتِ سیِّدُنا مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباریفرماتے ہیں  :    یعنی مسجد یا گھر میں اِس حال میں رہے کہ ذِکر یا غوروفکرکرنے یا علمِ دین سیکھنے سکھانے یا ’’ بیتُ  اللہ    کے طواف میں مشغول رہے‘‘ نیز ’’ صرف خیر ہی بولے‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں  :   ’’ یعنی فجر اور اشراق کے درمیان خیر یعنی بھلائی کے سوا کوئی گفتگو نہ کرے کیونکہ یہ وہ بات ہے جس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے۔ (مِرْقَاۃج۳ ص۳۹۶ تَحْتَ الْحَدِیْث۱۳۱۷)  

 ‘‘نمازِ اِشراق کا وقت

   سورَج طُلُوع ہونے کے کم از کم بیس یا پچیس مِنَٹ بعد سے لے کر ضحو ہ ٔکُبریٰ تک نَمازِ اِشراق کا وَقت رہتا ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ   تَعَالٰی  علیٰ محمَّد



Namaz -e- Ishraaq Aur Us Ka Waqt
Namaz -e- Ishraaq Aur Us Ka Waqt

Post a Comment

0 Comments