دُعا میں الفاظ کا انتخاب

دُعا میں الفاظ کا انتخاب  : 

دُعا کے دوران بہترین الفاظ کا چناؤ بندے کو کسی مصیبت و پریشانی سے نجات دِلا سکتا ہے اور غیر محتاط الفاظ بندے کو آزمائش میں بھی مبتلا کر سکتے ہیں جسے اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے : 
بنی اسرائیل میں بَسُوس نام کا ایک شخص تھا ، اسے حکم ہوا کہ تیری تین دعائیں قبول ہوں گی ۔ اُس نے اپنی  بیوی کے لئے بنی اسرائیل کی سب سے خوب صورت عورت بن جانے کی دعاکی، اس کی بیوی بنی اسرائیل کی خوب صورت ترین عورت بن 
گئی مگرخوب صورتی کے غرور نے بیوی کوشوہر کا نافرمان بنا دیا ۔ تنگ آکربَسُوس نے اسے بھونکنے والی کتیا بن جانے کی بددعا دی، یہ بھی فوراً قبول ہوئی اور وہ کتیا بن گئی ۔ بَسُوس کے بیٹوں نے اپنی ماں کی حالت دیکھ کرباپ سے سفارش کی تواُس نے  دعا کی :  الٰہی!اسے پہلے والی شکل و صورت عطاکردے  ۔ یہ دعا بھی قبول ہوئی اور اُسے پہلے جیسی صورت عطاکردی گئی ۔ یوں بَسُوس نے لفظوں کا غلط انتخاب کرکے قبولیت سے سرفراز ہونے والی تین دعائیں ضائع کردیں ۔ (1) 
عُلَمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے دعا کے کچھ آداب بیان فرمائے ہیں :  ٭باطہارت  ہو٭ قبلہ کی جانِب رُخ ہو ٭مکمل توجہ کے ساتھ دُعا کرے ٭دُعا کے اوّل و آخر نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھے ٭ہاتھوں کو آسمان کی طرف اُٹھائے اور اپنی دُعا میں مسلمانوں کو بھی شامل کرے ٭قبولیتِ دعا کے لمحات مثلاً جمعہ کے دن خطبہ کے وقت(2)، بارش برستے ہوئے ، اِفطار کے وقت، رات کے تہائی پہر اور ختمِ قرآن کی مجلس وغیرہ کا لحاظ کرے  ۔ (3)

________________________________
1 -     تفسیر بغوی، پ ۹، الاعراف :  ۱۷۵، ۲ / ۱۸۰
2 -    افضل یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بغیر ہاتھ اٹھائے ، بلا زبان ہلائے دل میں دعا مانگی جائے ۔ (نماز کے احکام، ص۴۱۲ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
3 -    روح المعانی، پ ۸، الاعراف، تحت الآية : ۵۵، ٨ / ۵۲۷ ملتقطاً 

Post a Comment

0 Comments