درود شریف و زیارت قبر شریف

درود شریف و زیارت قبر شریف

مومنوں پر واجب ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیجا کریں ۔ چنانچہ اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے: 
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۵۶)   (احزاب، ع۷)
تحقیق اللّٰہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے رہتے ہیں اے ایمان والو!  تم ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔ ( ۱)
اس آیت میں تاکید کے لئے جملہ اسمیہ لایا گیا ہے جس کے شروع میں بغر ض تاکید مزید حرف تاکید مذکور ہے۔ اس جملہ کی خبر فعل مضارع ہے جو افادۂ استمرار تجددی کرتاہے۔ اللّٰہ تعالٰی فرماتاہے کہ میں اور میرے تمام فرشتے  ( جن کی گنتی مجھے ہی معلوم ہے )  پیغمبر پر درود بھیجتے رہتے ہیں اے مومنو!  تم بھی اس وظیفہ میں میری اور میرے فرشتوں کی اقتداء کرو۔  ( ۲) 
واضح رہے کہ خدا کے درود بھیجنے سے مراد رحمت کا نازل کرنا اور فرشتوں اور مومنوں کے درود سے مراد اُن کا بارگاہ رب العزت میں تَضَرُّع ودعا ء کرناہے کہ وہ اپنے حبیب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رحمت و برکت نازل فرمائے۔ 
مومنوں کی طرف سے درود بھیجنے میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم ہے اور بھیجنے والوں کا بھی فائدہ ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالٰی اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔ ( ۳) مسلمانو!  رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس شان محبوبیت اور عظمت جاہ کو دیکھئے کہ امت کا ایک بندہ حقیر و ذلیل ،  حبیب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیجتا ہے تو اس کا بدلہ خودرب جلیل جَلَّ شَانُہٗ دیتا ہے اور ایک کے مقابلہ میں دس رحمتیں نازل فرماتاہے۔رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل سے یہ شرف صرف اسی امت کو عطاء ہوا ہے کیونکہ اس امت کے سوا کسی اور امت کو ا پنے پیغمبر پر درود و سلام بھیجنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

درود شریف کے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ درود شریف اجابت ِدُعا (۱ ) کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا تَوَسُّل بالنبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ دلائل الخیرات شریف میں ہے کہ حضرت ابو سلیمان عبدالرحمن بن عطیہ دارانی  ( متوفی ۲۱۵ھ)  ( ۲)  نے فرمایا کہ جب تم خدا تعالٰی سے کچھ مانگو تو دعا سے پہلے اور پیچھے درود شریف پڑھ لیا کرو کیونکہ اللّٰہ تعالٰی دونوں طرف کے درود شریف کو تو اپنے کرم سے قبول کرہی لیتا ہے اور یہ اس کے کرم سے بعید ہے کہ درمیان کی چیز کو رد کردے۔ ( ۳)  علامہ فاسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شرح دلائل الخیرات میں لکھتے ہیں کہ بعض کے نزدیک امام دارانی کے قولِ مذکور کا تتمہ یوں ہے:  ’’ اور ہر ایک عمل مقبول ہوتا ہے یا مر دود سوائے درود شریف کے کہ وہ مقبول ہی ہوتا ہے مردود نہیں ہوتا۔ ‘‘  ( ۴)  امام باجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (۵ ) نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کہ جب تم اللّٰہ تعالٰی سے کچھ مانگو تو اپنی دعا میں درود شریف شامل کرو کیونکہ درود شریف مقبول ہوتاہے اور اللّٰہ تعالٰی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ بعض کو قبول کرے اور بعض کو رد کرے۔ شیخ ابو طالب مکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب تم اللّٰہ تعالٰی سے کچھ مانگو تو پہلے درود شریف پڑھو۔ کیونکہ اللّٰہ تعالٰی کی شان سے بعید ہے کہ اس سے دو حاجتیں مانگی جائیں جن میں سے ایک کو پورا کردے اور دوسری کو رد کردے۔ اس روایت کو امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  ’’ احیاء العلوم ‘‘  میں نقل کیا ہے۔ ( ۶)  امام عراقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا کہ میں نے اس روایت کو مرفوع نہیں پایا وہ ابوالدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر موقوف ہے۔ ( ۷)    ’’ شفاء شریف ‘‘  میں ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ درود شریف کے درمیان کی دعاء رد نہیں کی
 جاتی۔ (۱ )   ابو محمد  جبر نے اس روایت کو کتاب  ’’ شرف المصطفیٰ ‘‘  سے منسوب کیاہے۔ کذافی   ’’  مطالع المسرات ‘‘ ۔ (۲ ) 
علامہ شامی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سلف کے قول ( کہ درود شریف کبھی رد نہیں ہوتا)  کی تاویل و تصحیح یوں کی ہے کہ درود شریف  (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی محمد ) دعا ہے اور دعا کبھی مقبول ہوتی ہے اور کبھی مردود۔ مگر درود شریف عموم دعاء سے مستثنیٰ ہے کیونکہ نص قرآنی سے ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالٰی اپنے رسول پر درود بھیجتارہتا ہے۔ اس نے اپنے مومن بندوں پر احسان کیا ہے کہ ان کو بھی درود بھیجنے کاحکم دیاہے تاکہ ان کو زیادہ فضل و شرف حاصل ہوجائے۔ ورنہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تو اپنے پروردگار کا درود ہی کافی ہے۔ پس مومن کا اپنے رب سے طلب دُرود کرنا قطعاً مقبول ہے کیونکہ خدا تعالٰی خود خبردے رہا ہے کہ میں اپنے رسول پر درود بھیجتا رہتا ہوں ۔ باقی تمام دعائیں اور عبادتیں اس کے برعکس ہیں ۔ لہٰذا درود شریف کے مقبول ہی ہونے کی سند نص قرآنی ہے۔ رہااس پر ثواب کا ملنا،  سووہ چند عوارِض سے مشروط ہے اور وہ عوارِض یہ ہیں : قلب غافل سے پڑھنا،  ریا و سمعہ کے لئے پڑھنا،  (۳ ) کسی حرام چیز پر استعمال کرنا،  وغیرہ۔کذافی رد المحتار۔ ( ۴) 
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضہ شریف کی زیارت بالاجماع سنت اور فضیلت عظیمہ ہے۔ اس بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں جن میں سے چند  ’’ وفاء الوفاء ‘‘  سے یہاں پیش کی جاتی ہیں ۔ ( ۵) 
 {1}   مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِی.جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت ثابت ہوگئی۔ (۶ )    (دارقطنی و بیہقی وغیرہ )  

 {2}  مَنْ زَارَ قَبْرِیْ حَلَّتْ لَہٗ شَفَاعَتِی. ’’ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے واسطے میری شفاعت ثابت ہوگئی۔ (۱ )   (بزار) 
 {3}  مَنْ جَآئَ نِیْ زَا       ٓئِرًا لَا تَحْمِلُہٗ حَاجَۃٌ اِلَّا زِیَارَتِیْ کَانَ حَقًّا عَلَیَّ اَنْ اَکُوْنَ لَہٗ شَفِیْعًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔جو میری زیارت کو اس طرح آیا کہ میری زیارت کے سوا کوئی اور چیز ا س کو نہ لائی تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن میں اس کا شفیع ہوں گا۔ ( ۲)   ( کبیر واوسط طبرانی۔ امالی دارقطنی وغیرہ۔) 
  {4} مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِیَ بَعْدَ وَفَاتِیْ کَانَ کَمَنَ زَاَرنِیْ فِیْ حَیَاتِیْ۔ جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی وہ مثل اس کے ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (۳ )   ( دار قطنی و طبرانی وغیرہ ) 
 {5}     مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ وَلَمْ یَزُرْنِیْ فَقَدْ جَفَانِیْ ۔جس نے بیت اللّٰہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی ا س نے مجھ پر ستم کیا۔ (۴ )   
 (کامل ابن عدی ) 
 {6} مَنْ زَارَنِیْ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کُنْتُ لَہٗ شَھِیْدًا وَشَفِیْعًا۔جس نے مدینہ آکر میری زیارت کی میں اس کے لئے گواہ اور شفیع ہوں گا۔ (5)   ( سنن دار قطنی) 
 {7} مَنْ زَارَ قَبْرِیْ اَوْ مَنْ زَارَنِیْ کُنْتُ لَہٗ شَفِیْعًا اَوْ شَھِیْدًا وَ مَنْ مَاتَ فِیْ اَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی الْاٰمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔جس نے میری قبرکی زیارت کی  (یافرمایا)  جس نے میری زیارت کی میں اس کے لئے شفیع یا گواہ ہوں گااور جو شخص حرمین میں سے ایک میں مرگیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کو قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا۔  (۶ )   (ابو داؤد طیالسی)  


 {8} مَنْ زَارَنِیْ مُتَعَمِّدًا کَانَ فِیْ جَوَارِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۔ جس نے بالقصد میری زیارت کی وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہوگا۔ (۱ )   (ابو جعفر عقیلی ) 
 {9} مَنْ زَارَ      نِیْ بَعْدَ مَمَاتِیْ فَـــکَاَ نَّمَا زَارَ      نِیْ فِیْ حَیَاتِیْ وَمَنْ مَاتَ بِاَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بُعِثَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مرگیا وہ قیامت کے دن امن والوں کے زمرہ میں اٹھایاجائے گا۔ ( ۲)   (دارقطنی وغیرہ ) 
 {10}  مَنْ حَجَّ اِلٰی مَکَّۃَ ثُمَّ قَصَدَنِیْ فِیْ مَسْجِدِیْ کُتِبَتْ لَہٗ حَجَّتَانِ مَبْرُوْرَتَانِ ۔ جس نے مکہ میں حج کیا پھر میری مسجد میں میری زیارت کی اس کے لئے دو مقبول حج لکھے گئے۔ ( ۳)   ( مسند فردوس) 
اَحادیث مذکورہ بالا کے علاوہ کتاب اللّٰہ سے بھی یہی ثابت ہوتاہے۔ چنانچہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے: 
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (۶۴)   (نساء،  ع ۹) 
اور اگر یہ لوگ جس وقت کہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تیرے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور پیغمبر اُن کیلئے بخشش مانگتے تو وہ خدا کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔ ( ۴)  
اس آیت میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت شریف میں حاضر ہوکر توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے مگر قبول توبہ کے لئے ایک تیسرے امر گناہ گار انِ امت کے لئے اِسْتِغْفارِ رسول کی بھی ضرورت بیان ہوئی ہے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تمام مومنوں کے لئے طلب مغفرت فرمانا تو ثابت ہی ہے کیونکہ حضور کوحکم الٰہی یوں ہے: 

وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-
اور تواپنے سبب سے مومنین اور مومنات کیلئے بخشش مانگ۔ (۱ )  
ظاہر بالبداہت ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس حکم کی تعمیل کی۔ پس اگر باقی دوامر  (گنہگاروں کا بغرض توسل حاضر خدمت ہونا اورطلب مغفرت کرنا )  پائے جائیں تو وہ مجموعہ مُتَحَقَّق ہوجائے گاجو موجب قبول توبہ و رحمت الٰہی ہے۔
آیت زیر بحث استغفر لھمکا عطف جاء وک پرہے اس لئے اس کا مقتضا یہ نہیں کہ اِستغفارِ رسول اِستغفارِ عاصیان کے بعد ہو۔ علاوہ ازیں ہم تسلیم نہیں کرتے کہ حضو ر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام وفات شریف کے بعد گنہگار انِ اُمت کیلئے طلب مغفرت نہیں فرماتے کیونکہ حضور  ( بلکہ تمام انبیاء کرام عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)  وفات شریف کے بعد زندہ ہیں اور عاصیان امت کے لئے طلب مغفرت فرماتے ہیں ۔ چنانچہ بزارنے صحیح راویوں کے ساتھ حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’  حَیَاتِیْ خَیْرٌ لَکُمْ تُحَدِّثُوْنَ وَ اُحَدِّثُ لَکُمْ وَ وَفَاتِیْ خَیْرٌ لَکُمْ تُعْرَضُ عَلَیَّ اَعْمَالَکُمْ فَمَا رَاَیْتُ مِنْ خَیْرٍ حَمِدْتُ اللّٰہَ عَلَیْہِ وَ مَا رَاَیْتُ مِنْ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللّٰہَ لَکُمْ۔  ‘‘  (۲ ) 
میری زندگی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ تم مجھ سے  (حلال و حرام)  پوچھتے ہو میں تمہیں  (بذریعہ وحی)  احکام سناتا ہوں اور میری وفات بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ تمہارے اعمال میرے سامنے پیش ہوا کریں گے۔ میں اچھے عملوں کو دیکھ کر اللّٰہ کا شکر کروں گا اور برے عملوں کو دیکھ کر تمہارے واسطے مغفرت کی دعا کیا کروں گا۔ 
پس آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حیات شریف ہی میں عاصیانِ امت کو بشارت دے دی کہ میں وفات شریف کے بعد بھی ان کے لئے استغفار کیا کروں گا اور حضور کے کمالِ رحمت سے معلوم ہے کہ جو شخص اپنے رب سے طلب مغفرت کرتا ہوا حضورکی بارگاہ عالی میں حاضر ہوتا ہے آپ اس کے لئے استغفار فرماتے ہیں ۔ اسی واسطے علمائے کرام نے تصریح فرمادی ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ رتبہ آپ کی وفات شریف سے منقطع نہیں ہوا۔
جو شخص یہ کہتاہے کہ اس آیت کا حکم آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حالت حیات شریف کے ساتھ ہی مختص ہے وہ غلطی پر ہے کیونکہ یہ اصولی قاعدہ ہے کہ عموم الفاظ کا اعتبار ہوتاہے نہ کہ موردخاص کا۔ صحابہ کرام اور تابعین عموم الفاظ قرآنی سے حجت پکڑتے رہے باوجود یہ کہ وہ آیتیں خاص موقعوں پر نازل ہوئیں ۔  (اتقان للسیوطی)  اسی طرح آیت زیر بحث اگرچہ ایک خا ص قوم کے حق میں حالت حیاتِ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نازل ہوئی لیکن جہاں یہ وصف  ( عاصیانِ اُمت کا حضور سید الابرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں گناہوں کی معافی کے لئے حاضر ہونا)  پایاجائے گا عموم حالت کے موافق اس کا حکم بھی عام اور ہر دو حالت حیات وبعد الوفات کو شامل ہوگا۔ چنانچہ علمائے کرام نے عموم سے ہر دو حالتیں سمجھی ہیں اور جو شخص قبر شریف پر حاضر ہو اس کے واسطے مستحب خیال کیا ہے کہ وہ اس آیت کو پڑھے اور اللّٰہ تعالٰی سے مغفرت مانگے۔ امام عُتْبی (امام شافعی کے استاد)  کی حکایت اس باب میں مشہو ر ہے اور مذاہب اربعہ کے علماء نے اسے اپنے مناسک میں نقل کیا ہے اور اسے مستحسن سمجھ کر آداب زیارت میں شامل کیا ہے۔ (۱ )   ہم اس حکایت کو ان شاء اللّٰہ تعالٰی بحث توسل میں لائیں گے۔ (۲ ) 
صحابہ کرام کے زمانہ سے آج تک اہل اسلام حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضہ شریف کی زیارت اورحضور سے توسل واستغاثہ کرتے رہے ہیں ۔ جب حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے اہل بیت المقدس سے صلح کی تو کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لائے۔ حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان سے خوش ہوئے اور فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ مدینہ منورہ چلو اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر شریف کی زیارت سے فائدہ اٹھاؤ۔ حضرت کعب احبار نے جواب دیا کہ ہاں ۔ (۳ )   (زرقانی علی المواہب)  
حافظ ابو عبداللّٰہ محمد  بن موسیٰ بن نعمان اپنی کتاب ’’  مِصْبَاحُ الظَّلَام ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حافظ ابو سعید سمعانی نے بروایت علی ابن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نقل کیا ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دفن شریف


 کے تین دن بعد ایک اعرابی ہمارے پاس آیا اس نے اپنے آپ کو قبر شریف پر گرادیااور قبر شریف کی کچھ مٹی اپنے سر پر ڈالی اور عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ نے جو کچھ فرمایا وہ ہم نے سن لیا اللّٰہ تعالٰی نے آپ پر قرآن نازل کیا جس میں ارشاد فرمایا: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ آیہ (۱ ) میں نے ظلم کیا میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ میرے حق میں طلب مغفرت فرمائیں ۔قبر شریف سے آواز آئی کہ تجھے بخش دیاگیا۔ (۲ )  
مسند امام ابی حنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں بروایت امام منقول ہے کہ حضرت ایوب سختیانی تابعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہآئے جب وہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر شریف کے نزدیک پہنچے تو اپنی پیٹھ قبلہ کی طرف اور منہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ مبارک کی طرف کرلیا اور رَوئے۔ (۳ )  توسل کی دیگر مثالیں عنقریب مذکور ہوں گی۔ اِنْ شَائَ اللّٰہ تَعَالٰی۔
ذیل میں چند آداب زیارت بیان کیے جاتے ہیں ۔ زائرین کو چاہیے کہ ان کو ملحوظ رکھیں ۔ 
 {1} … زائرین کو مناسب ہے کہ زیارت روضہ شریف کے ساتھ مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نماز پڑھنے کی بھی نیت کریں ۔ اگر مجردزیارت کی نیت کریں تو اَولیٰ ہے۔ دوسری بار اگر موقع ملے تو ہر دوکی نیت کریں ۔
 {2} … مدینہ منورہ کے راستہ میں درود و سلام کی کثرت رکھیں ۔
 {3} … راستے میں مساجد اور آثارِ شریفہ جورسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منسوب ہیں ان کی زیارت کریں اور ان میں نماز پڑھیں ۔
 {4} …جب مدینہ منورہ کے مکانات نظرآنے لگیں تو بپاس ادب پیدل ہوجائیں اور درود و سلام بھیجیں اور شہر میں داخل ہونے سے پہلے یا داخل ہوکر غسل کریں اور تبدیل لباس کرکے خوشبولگائیں ۔
 {5} …پہلے مسجد نبوی میں داخل ہوکر دورکعت تحیۃ المسجد پھر دوگانۂ شکر ادا کریں کہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنے حبیب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پر پہنچادیا۔
 {6} … دوگانۂ شکر کے بعد روضہ شریف پر حاضر ہوں ۔ زیارت کے وقت اپنی پیٹھ قبلہ کی طرف اور منہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم 
کے چہرہ مبارک کی طرف کریں اور جالی مبارک کے قریب کھڑے ہوکر نہایت ادب و خشوع سے سلام عرض کریں اور اگر کسی دوست وغیرہ نے حضرت نبوی میں سلام بھیجا ہوتو اس کی طرف سے سلام پہنچائیں ۔
 {7} … حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سلام سے فارغ ہوکر ایک ہاتھ اپنی دائیں طرف کو ہٹ کر حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں سلام عرض کریں ۔ پھر ایک ہاتھ اور دائیں طرف کو ہٹ کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں سلام عرض کریں ۔ 
 {8} …بعدا زاں اپنی پہلی جگہ پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر درود وسلام عرض کریں ۔ پھر گناہوں سے توبہ کرکے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے وسیلہ سے دعا مانگیں ۔
 {9} … اَیامِ قیام مدینہ منورہ میں نماز فرض ہویا نفل مسجد نبوی میں پڑھا کریں ۔
 {10}  …مسجد قُبا میں جاکر نماز پڑھیں اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثارِ شریفہ ودیگر مزارات کی زیارت کریں ۔ 
________________________________
1 -     ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والوان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔(پ۲۲،الاحزاب:۵۶)۔علمیہ
2 -     یہاں وظیفہ سے مراد کام ہے ۔ عوام میں وظیفہ کے جو معنی مشہور ہیں وہ مراد نہیں ۔علمیہ
3 -     صحیح مسلم،کتاب الصلوٰۃ،باب الصلاۃ علی النبی،الحدیث:۴۰۸، ص۲۱۶۔علمیہ


________________________________
1 -     دعا کی قبولیت
2 -     سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ ابو سلمان ‘‘ہے جبکہ دلائل الخیرات اور مطالع المسرات میں ’’ ابو سلیمان ‘‘ ہے لہٰذاکتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ’’ ابو سلمان ‘‘ کے بجائے ’’ ابو سلیمان ‘‘ لکھا ہے۔علمیہ
3 -     دلائل الخیرات مع مطالع المسرات(مترجم)،فصل فی فضل الصلاۃ علی البنی۔۔۔الخ، ص۱۰۰۔علمیہ
4 -     مطالع المسرات (مترجم)،فصل فی فضل الصلاۃ علی النبی۔۔۔الخ، ص۱۰۲-۱۰۳۔علمیہ
5 -     سیرتِ رسولِ عربی کے بعض نسخوں میں یہاں ’’ امام خفاجی ‘‘ اور بعض میں ’’ امام باجی ‘‘ لکھا ہے، مطالع المسرات کے حوالے سے ہم نے ’’ امام باجی ‘‘ لکھا ہے۔علمیہ
6 -     احیاء علوم الدین، کتاب الاذکاروالدعوات،الباب الثانی فی آداب الدعائ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۰۶۔علمیہ
7 -     المغنی عن حمل الاسفار فی الاسقار فی تخریج ما فی الاحیاء من الاخبار علی ھامش الاحیائ،کتاب الاذکار والدعوات، الباب الثانی،ج ۱، ص۴۰۶   ۔علمیہ


________________________________
1 -     الشفاء،القسم الثانی فیما یجب علی الانام،الباب الرابع فی حکم الصلوۃ علیہ،فصل:فی المواطن التی تستحب فیھا، ج۲، ص۶۶۔علمیہ
2 -     مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات (مترجم)،ص۱۰۲۔علمیہ
3 -     دکھاوے اور شہرت کے لیے پڑھنا۔
4 -     رد المحتار،کتاب الصلوۃ ، مطلب فی ان الصلاۃ علی النبی۔۔۔الخ،ج۲، ص۲۸۳و۲۸۵۔علمیہ
5 -     وفاء الوفاء، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ،الفصل الاول فی الزیارۃ نصا۔۔۔الخ، ج۲، الجزء ۴،ص۱۳۳۹ تا۱۳۶۱۔علمیہ
6 -     سنن الدارقطنی، کتاب الحج ، باب ماجاء فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، الحدیث:۲۶۹۵ ، ج۳، ص۳۳۴۔علمیہ



________________________________
1 -     وفاء الوفاء،الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ،الفصل الاول فی الزیارۃ نصا۔۔۔الخ، ج۲، الجزء ۴،ص۱۳۳۹۔علمیہ
2 -     المعجم الاوسط للطبرانی،من اسمہ عبدان،الحدیث:۴۵۴۶،ج۳،ص۲۶۶۔علمیہ
3 -     المعجم الکبیرللطبرانی، مجاہد عن ابن عمر،الحدیث:۱۳۴۹۷،ج۱۲،ص۳۱۰۔علمیہ
4 -     شعب الایمان للبیہقی ، الخامس و العشرون باب فی المناسک ، فضل الحج  و العمرۃ ، الحدیث : ۴۱۵۷ ، ج۳ ، ص۴۹۰۔علمیہ
5 -     مسند ابی داود الطیالسی،الافراد،ج۱،ص۱۲۔علمیہ



________________________________
1 -     کتاب الضعفاء للعقیلی،۱۹۷۷ہارون بن قزعۃ(مدینی)،ج۴،ص۱۴۷۷وشعب الایمان للبیہقی،الخامس والعشرون باب فی المناسک،فضل الحج والعمرۃ،الحدیث:۴۱۵۲،ج۳،ص۴۸۸۔علمیہ
2 -     سنن الدارقطنی،کتاب الحج،باب ماجاء فی زیارۃ قبر...الخ،الحدیث:۲۶۹۴،ج۳، ص۳۳۴۔علمیہ
3 -     فردوس الاخبار،باب المیم، فصل مَن حج،الحدیث:۵۷۰۵،ج۲،ص۲۵۲۔علمیہ
4 -     ترجمۂکنزالایمان : اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔(پ۵،النساء:۶۴)۔علمیہ




________________________________
1 -  ترجمۂکنزالایمان:اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔ (پ۲۶،محمد:۱۹)۔علمیہ
2 -     مسند البزّار، زاذان عن عبداللہ، الحدیث:۱۹۲۵،ج۵،ص۳۰۸۔علمیہ۔





________________________________
1 -     دیکھو وفاء الوفاء للسمہودی اور شفاء السقام للسبکی۔   وفاء الوفاء ، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ ، الفصل الاول فی الزیارۃ نصا۔۔۔الخ، ج۲، الجزء۴، ص۱۳۶۰۔علمیہ
2 -     یہ حکایت صفحہ 717پر ملا حظہ فرمائیے!
3 -     شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالعاشر۔۔۔الخ،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ۔۔۔الخ،ج۱۲، ص۱۸۳۔علمیہ





________________________________
1 -     ترجمۂکنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں ۔ (پ۵،النساء:۶۴)۔علمیہ
2 -     وفاء الوفاء، جزء ثانی، ص۴۱۲۔ (وفاء الوفاء،الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،الفصل الاول فی الزیارۃ نصا۔۔۔الخ، ج۲، الجزء۴،ص۱۳۶۱۔علمیہ)
3 -     وفاءالوفاءء، جزء ثانی، ص ۴۲۴۔ (وفاء الوفاء، الباب الثامن ۔۔۔الخ،الفصل الثالث فی توسل الزائر۔۔۔الخ، ج۲، الجزء ۴، ص۱۳۷۷۔علمیہ)







Post a Comment

0 Comments