دُعا کے آداب کو پیشِ نظر رکھئے
دُعا کی اَہمیت وفضیلت کے پیشِ نظر اس کے آداب کا جاننا اور دَورانِ دُعا انہیں بجالانا ضَروری ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِنسان کو دُنیوی بادشاہ یاکسی بھی عہدہ دار وغیرہ سے کوئی غَرض یا حاجت ہو تو اِنتہائی اَدب و اِحترام اور توجُّہ کے ساتھ اس کواپنی دَرخواست پیش کرتاہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر لاپرواہی اور غفلت سے کام لیا تو بات نہیں بنے گی ۔ غور تو کیجئے جب دُنیوی بادشاہوں ، اُن کے درباروں اور عُہدہ داروں کے پاس جانے کے آداب بجا لانے کا یہ عالَم ہے تو اللہ پاک جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے ، اس کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے میں کس قدر اِہتمام ہونا چاہیے ۔ یہ ہر ذِی شُعور سمجھ سکتا ہے ۔ لہٰذا جب بھی دُعا مانگیں تو اِنتہائی توجُّہ اور یکسوئی کے ساتھ دُعا کے آداب بجا لاتے ہوئے مانگئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دُعا قبول ہو گی ۔


0 Comments