دُعا کی اَہمیت وفضیلت

دُعا کی اَہمیت وفضیلت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُعا کی اہمیت ہر مسلمان جانتا ہے  ۔ ہمیں اللہ پاک سے کیا، کن الفاظ سے ، کس طرح مانگنا چاہئے اس کی اہمیت کا اندازہ بیان کردہ حدیث پاک سے لگایا جا سکتا ہے  ۔ ہمارا خالق و مالک عَزَّ وَجَلَّ کیسا کریم ہے کہ مانگنے والوں سے خوش ہوتا اور نہ مانگنے والوں پر غضب فرماتا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ  کریم سے اپنی حاجات اور خیر طلب کرتے رہیں ۔  اللہ پاک سے خیر طلب کرنے کو  ” دُعا “ کہتے ہیں اور ” دُعا “  نہ صِرف عبادت ہے بلکہ نبیٔ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ  یعنی دُعا عبادت کا مغز ہے  ۔ (2) اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤمِنِ وَ عِمَادُ الدِّیْنِ وَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی دُعا مؤمن کا ہتھیار، دِین کا سُتُون اور آسمان و زمین کا نُور ہے  ۔ (3)دُعاایسی عبادت ہے جو اس بات کااحساس دلاتی ہے کہ گویا بندہ  اللہ پاک سے ہم کلام ہے  ۔ دُعاکے ذریعے ہی بندہ اللہ کریم کی بارگاہ میں اپنی حاجات و ضَروریات پیش کرتا ہے  ۔ دُعا بندے کو اپنے کریم ربّ کی جناب میں پہنچاتی، اس کے حضور عاجزی کرواتی اور اس کی عظمتوں کا کلمہ پڑھواتی ہے ۔ جسے دُعا کی توفیق دی گئی، اسے بہت بڑی خیر کی توفیق دی گئی اور اس کے لئے بھلائی کے دروازے کھول

 دیئے گئے اور جس کے لیے دُعا   کا دروازہ بند ہو گیا اس کے لیے خیر و عافیت کا دروازہ بند ہو گیا ۔   

Post a Comment

0 Comments