آدابِ دُعا

آدابِ دُعا

درود شریف کی فضیلت
سَرورِ ذِیشان ، مکی مدنی سُلطانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  اَلدُّعَاءُ مَحْجُوْبٌ عَنِ اللهِ حَتّٰى يُصَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ، وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ یعنی دُعا اللہ پاک  سے حجاب میں ہے (یعنی قبول نہیں ہوتی) جب تک محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) اور ان کی آل پر دُرُود نہ بھیجا جائے  ۔ (1)   
صَلُّوْا  عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلٰی مُحَمَّد
دُعا کا طریقہ مصطفٰے نے سِکھایا
حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ایسے شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو بہت کمزور ہوچکا تھا ۔ نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا : کیا تم اللہ پاک  سے کوئی دُعا کرتے تھے ؟اس نے عرض کی : جی ہاں !میں یہ دُعا کرتا تھا : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو مجھے آخرت میں کوئی سزا دینے والا ہے تووہ  دنیا میں ہی دیدے  ۔ نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  : سُبْحٰنَ اللہ !تم اسے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، تم یو ں کیوں نہیں کہتے : اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی
 عطا فرما اورہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔  پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دعا کی تو اللہ پاک  نے  اسے شفاعطا فرمادی ۔



________________________________
1 -     شعب الایمان، باب فی تعظیم النبی ...الخ، ۲ / ۲۱۶، حدیث : ۱۵۷۶ 



Post a Comment

0 Comments