ذُوالْحِجّۃ الحرام
ابتدائی دس دن کی فضیلت
بعض احادیثِ مُبارَکہ کے مطابِق ذُوالْحجَّۃِالْحرامکا پہلا عَشَرہ (یعنی اِبتِدائی دس دن) رَمَضانُ الْمُبارَک کے بعد سب دِنوں سے افضل ہے۔
’’اللّٰہ ‘‘کے چار حُرُوف کی نسبت سے عَشَرَۂ ذُوالْحجَّۃِ الْحرام کے مُتَعَلِّق 4 رِوایات
نیکیاں کرنے کے پسندیدہ ترین اَیّام
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ، محبوبِ ربِّ غفّار عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ نور بار ہے : ’’ان دس دنوں سے زیادہ کسی دن کا نیک عمل اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ کو محبوب نہیں ۔‘‘ صَحَا بۂ کِرام علیہم الرضوان نے عرض کی، ’’یا رسول اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا ورنہ راہِ خُدا عَزَّ وَجَلَّ میں جِہاد ؟ ‘‘فرمایا ، ’’اور نہ راہِ خُدا عَزَّ وَجَلَّ میں جِہاد ، مگر وہ کہ اپنے جا ن ومال لیکر نِکلے پھر ان میں سے کچھ واپَس نہ لائے ۔(یعنی صِرف وہ مُجاہِد افضل ہوگاجو جان ومال قربان کرنے میں کامیاب ہوگیا)(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۱ص۳۳۳حدیث۹۶۹)
شبِ قَدرکے برابر فضیلت
حدیث ِپا ک میں ہے ، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کو عَشَرَۂ ذُوالْحجَّہسے زیادہ کسی دن میں اپنی عِبادت کیا جانا پسندیدہ نہیں اِس کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ہرشب کاقِیام شبِ قَدْر کے برابر ہے۔‘‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۲ص۱۹۲حدیث۷۵۸)
عَرَفہ کا روزہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو قَتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایَت ہے ، سُلطانِ مدینہ، قرارِ قَلْب وسینہ ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعَطَّر پسینہ، باعِثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے : ’’مجھے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ پر گُمان ہے کہ عَرَ فہ( یعنی ۹ ذُوالحِجَّۃِ الْحرام ) کا روزہ ایک سال قَبْل اور ایک سال بعدکے گُناہ مِٹادیتا ہے۔‘‘ ( صَحِیح مُسلِم ص۵۹۰حدیث۱۹۶)
ایک روزہ ہزار روزوں کے برابر
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایَت ہے، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : عَرَفہ ( یعنی ۹ ذوالحِجَّۃِ الحرام ) کا روزہ ہزار روزوں کے برابر ہے۔(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ ص۳۵۷حدیث۳۷۶۴) مگر حج کرنے والے پر جو عَرَفات میں ہے اُسے عَرَفہ ( یعنی ۹ ذوالحِجَّۃِ الحرام)کے دِن روزہ مکروہ ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ خُزَیْمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ حضرتِ سَیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی کہ حُضُورپُر نُور، شافِع یومُ النُّشُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عَرَ فہ کے دِن ( یعنی ۹ ذوالحِجَّۃِ الحرامکے روزحاجی کو ) عَرفات میں روزہ ر کھنے سے مَنْع فرمایا۔(صَحِیْحُ ابْنُ خُزَیْمَۃ ج۳ص۲۹۲حدیث۲۱۰۱)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !
صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
![]() |
| ذُوالْحِجّۃ الحرام کے فضائل ونوافل و دیگر Zulhajja Ke Fazail Wa Nawafil Wa Digar |


0 Comments