مختلف مدنی پھول Mukhtalif Aham Aur Zaruri Madani Phool

مختلف مدنی پھول

دُرُودشریف کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ     رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم    صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ مُشکبارہے  :    ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْرَصَلٰوتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیَّاتٍ وَرُفِعَتْ لَہٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ یعنی جس نے مجھ پر ایک بار دُرُود پاک پڑھا،  اللّٰہ     تَعَالٰی  اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس کے دس دَرَجے بلند کئے جائیں گے ۔‘‘ (مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ج۱ص۱۸۹حدیث۹۲۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’مُجددِ اعظم مولیٰنا امام احمد رضا ‘‘کے پچیس حُرُوف کی نسبت سے کھجور کے 25 مدنی پھو ل

(1) طبیبوں کے طبیب ، اللّٰہکے حبیب ، حبیب لبیب    عَزَّ وَجَلَّ    و    صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان صحت نشان ہے  :    ’’عالِیہ‘‘ ( یعنی مدینۂ منوّرہ میں مسجد قُباء شریف کی جانب ایک جگہ کا نام ) کی عَجْوَہ (مدینۂ منورہ کی سب سے عظیم کھجور کا نام ) میں ہر 


بیماری سے شفاء ہے ۔علامہ بدرالدین عینی حنفی   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی روایت کے مطابق ’’سات روزتک روزانہ سات عددعجوہ کھجورکھاناجذام(یعنی کوڑھ )کوروکتا ہے۔‘‘(عُمْدَۃُ الْقَاری ج۱۴ص۴۴۶)
 (2)میٹھے میٹھے آقا مکی مدنی مصطفی    صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان جنت نشان ہے  :    عجوہ کھجور جنت سے ہے، اس میں زہر سے شفاء ہے ۔(سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۱۷حدیث۲۰۷۳)
بخاری شریف کی روایت کے مطابق جس نے نہارمنہ عجوہ کھجور کے سات دانے کھالئے اس دن اسے جادو اورزہر بھی نقصان نہ دے سکیں گے ۔    (صَحِیحُ البُخارِیّ ج۳، ص۵۴۰حدیث۵۴۴۵)
کیا حدیث میں بتایا ہوا علاج ہر ایک کر سکتا ہے؟
احادیثِ مبارَکہ میں بیان کردہ علاج بھی اپنی مرضی سے نہیں کرنے چاہئیں ۔ بے شک سرکارِ مدینہ  صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے فرامِینِ والا شان حق، حق اور حق ہی ہیں ۔ مگر جو علاج نبیوں کے سرتاج ، صاحِبِ معراج  صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے تجویز فرمائے ہیں ہو سکتا ہے وہ خاص خاص مَوقَعوں موسِموں کی مُناسِبتوں اور مخصوص لوگوں کے مزاجوں اور طبیعتوں کے مُوافِق ہوں جیسا کہ حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان   اِس حدیثِ پاک فِی الحَبَّۃِالسَّوداءِشِفاءٌ مِّن کُلِّ دائٍ اِلَّاالسّامَ۔یعنی کالا دانہ( کلونجی) میں موت کے سِوا ہر بیماری سے شِفاہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں  :    ہر مرض(میں 


شِفا) سے مُراد ہر بلغمی اور رطوبت کے اَمراض میں (شفا ہے)، کیونکہ کلونجی گرم اور خشک ہوتی ہے لہٰذا مَرطُوب(یعنی تَری والی) اور سردی کی بیماریوں میں مُفید ہو گی ۔آگے چل کر مزید فرماتے ہیں  :    یہاں مُراد عرب کی عام بیماریاں ہیں (مِرقات) یعنی کلونجی عرب کی عام بیماریوں میں مفید ہے۔ خیال رہے کہ احادیثِ شریفہ کی دوائیں کسی حاذِق طبیب(یعنی ماہرِ طبیب ) کی رائے سے استِعمال کرنی چاہئیں (اہلِ عرب کو تجویز کردہ دوائیں ) صِرف (اپنی) رائے سے استِعمال نہ کریں کہ ہمارے (طَبعی )مزاج اہلِ عرب کے(طَبعی ) مزاج سے جُداگانہ ہیں ۔ ( مراٰۃ ج ۶ ص ۲۱۶، ۲۱۷، ضیاء القراٰن پبلی کیشنزمرکز الاولیاء لاہور)ساتھوں ساتھ یہ بھی خاص تاکید ہے کہ اِس کتاب میں دیا ہوا کوئی بھی نُسخہ اپنے طبیب سے مشورہ کئے بِغیر استِعمال نہ کیاجائے اگر چِہ یہ نُسخہ اُسی بیماری کیلئے ہو جس سے آپ دو چار ہوں ۔ اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی طَبعی(طَب۔عی) کیفیات جُدا جُدا ہوتی ہیں ، ایک ہی دوا کسی کیلئے آبِ حیات کا کام دکھاتی ہے تو کسی کیلئے موت کا پیام لاتی ہے۔ لہٰذا آپ کی جسمانی کیفیات سے واقِف آپ کا مخصوص طبیب ہی بہتر طے کر سکتا ہے کہ آپ کو کون سانُسخہ مُوافِق ہو سکتا ہے اور کون سا نہیں ۔کیوں کہ کتاب میں علاج کے طریقے بیان کرنا اور ہے جبکہ کسی خاص مریض کاعلاج کرنا اور۔
(3)سیدنا ابوہر یرہ    رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے ، کَھجورکھانے سے قُولنج(یعنی بڑی 


انتڑی کا درد) نہیں ہوتا ۔    (کَنْزُ الْعُمَّال ج۱۰، ص۱۲حدیث۲۸۱۹۱)
(4) طبیبوں کے طبیب ، اللّٰہ کے حبیب ، حبیب لبیب    عَزَّ وَجَلَّ    و    صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان شفاء نشان ہے  :    نہارمنہ کھجور کھاؤ اس سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں ۔(اَلْجَامِعُ الصَّغِیْرص۳۹۸حدیث۶۳۹۴)
(5)حضرت سیدناربیع بن خثیم     رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں  :   میرے نزدیک حاملہ کے لئے کھجور سے اور مریض کیلئے شہد سے بہتر کسی چیز میں شفاء نہیں ۔ ( اَلدُّرُالْمَنْثُوْر، ج۵، ص۵۰۵) 
 (6)سید ی محمد احمد ذھبی   رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :   حاملہ کو کھجوریں کھلانے سے اِنْ شَآءَ اللہ    عَزَّ وَجَلَّ    لڑکا پیداہو گا جو کہ خوبصورت بُردبار اورنرم مزاج  ہو گا ۔ 
 (7)جو فاقہ کی وجہ سے کمزور ہو گیا ہو اس کیلئے کھجوربہت مفید ہے کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور ہے اسکے کھانے سے جلد توانائی بحال ہو جاتی ہے؛لہٰذا کھجورسے افطار کرنے میں یہ حکمت بھی ہے ۔
(8) روزے میں فورًا برف کا ٹھنڈا پانی پی لینے سے گیس ، تبخیر معدہ اور جگر کے ورم کا سخت خطرہ ہے ، کھجور کھا کر ٹھنڈاپانی پینے سے نقصان کا خطرہ ٹل جاتاہے ، مگر سخت ٹھنڈاپانی پیناہر وقت نقصان دہ ہے ۔
(9)کھجوراورکھیرا یا ککڑی ، نیزکھجور اور تربوز ایک ساتھ کھانا سنت ہے ۔ اس میں بھی


 حکمتوں کے مدنی پھول ہیں ۔ الحمد للّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    ہمارے عمل کیلئے تو اس کا سنت ہونا ہی کافی ہے۔اطبّاء کا کہنا ہے کہ اس سے جنسی و جسمانی کمزوری اور دبلاپن دور ہوتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے سرکارِ مدینہ   صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ صحت بنیاد ہے  :    کہ مکھن کو کھجور کیساتھ ملا کر کھاؤ اور پرانی کیساتھ نئی کھجوریں ملا کر کھاؤ کیونکہ شیطان کسی کو ایسا کرتادیکھتا ہے تو افسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پرانی کیساتھ نئی کھجور کھا کر آدمی تنومند (یعنی مضبوط جسم والا ) ہو گیا ۔ (سُنَنُ ابن ماجہ ج۴ ص ۳۹حدیث۳۳۳۰)
(10)کھجور کھانے سے پر انی قبض دور ہوتی ہے ۔
(11) دمہ ، دل، گردہ ، مثانہ ، پتا اور آنتوں کے امراض میں کھجور مفید ہے ۔ یہ بلغم خارج کرتی ، منہ کی خشکی کو دور کر تی، قوت باہ بڑھاتی اور پیشاب آور ہے ۔
(12) دل کی بیماری اور کالا موتیا کیلئے کھجور کوگٹھلی سمیت کوٹ کر کھانا مفید ہے۔ 
(13)کھجورکو بھگو کراس کا پانی پی لینے سے جگر کی بیماریا ں دور ہوتی ہیں ۔ دست کی بیماری میں بھی یہ پانی مفید ہے ۔(رات کو بھگو کرصبح نہار منہ اس کا پانی پئیں مگر بھگونے کے لئے فریزر میں نہ رکھیں ۔)
(14)کھجورکو دودھ میں ابال کرکھانابہترین مقوی(یعنی طاقت دینے والی)غذا ہے۔  یہ غذا بیماری کے بعد کی کمزوری دور کرنے کیلئے بے حد مفید ہے۔ 
(15)کھجورکھانے سے زخم جلدی بھرتا ہے ۔


(16) یرقان(یعنی پیلیا ) کیلئے کھجور بہترین دواء ہے ۔
(17)تازہ پکی ہوئی کھجوریں صفراء (یعنی ’’ پت ‘‘ جس میں قے کے ذریعے کڑوا پانی نکلتا ہے ) اور تیزابیت کوختم کرتی ہیں  ۔
 (18)کھجورکی گٹھلیوں کو آگ میں جلا کر اس کا منجن بنا لیجئے ۔ یہ دانتوں کو چمکدار اور منہ کی بدبو کو دور کرتا ہے ۔
(19)کھجورکی جلی ہوئی گٹھلیوں کی راکھ لگانے سے زخم کا خون بند ہوتا اور زخم بھر جاتا ہے ۔
 (20)کھجورکی گٹھلیوں کوآگ میں ڈال کردھونی لینابواسیرکے مسو ں کوخشک کرتا ہے۔
 (21)کھجورکے درخت کی جڑوں یا پتوں کی راکھ سے منجن کرنا دانتوں کے درد کیلئے مفید ہے۔ جڑوں یا پتوں کو پانی میں ابال کر اس سے کلیاں کرنا بھی دانتوں کے درد میں فائدہ مند ہے ۔
 (22)جس کو کھجور کھانے سے کسی قسم کا نقصان) (side effectہوتا ہو تو انار کا رس یا خشخاش یا کالی مرچ کے ساتھ استعمال کرے اِنْ شَآءَ اللہ     عَزَّ وَجَلَّ     فائدہ ہو گا ۔
(23) ادھ پکی اور پرانی کھجوریں بیک وقت کھانا نقصان دہ ہے ۔اسی طرح کھجور کے ساتھ انگور یا کشمش یا منقہ ملا کر کھانا ، کھجو ر اور انجیربیک وقت کھانا ، بیماری سے اٹھتے ہی کمزوری میں زیادہ کھجوریں کھانااور آنکھوں کی بیماری میں کھجوریں کھانا مضر یعنی 
نقصان دہ ہے ۔
(24)ایک وقت میں 5تولہ(یعنی تقریباً 60 گرام )سے زیادہ کھجوریں نہ کھائیں ۔ پرانی کھجورکھاتے وقت کھول کر اندرسے دیکھ لیجئے کیوں کہ اس میں بعض اوقات سرسریاں ( یعنی چھوٹے چھوٹے لال کیڑے )ہوتی ہیں ؛ لہٰذا صاف کرکے کھائیے۔جس کھجور میں کیڑے ہونے کا گمان ہو اس کوصاف کئے بغیر کھانا مکروہ ہے۔(عون المعبود ج۱۰ ص۲۴۶)بیچنے والے چمکانے کیلئے اکثر سرسوں کا تیل لگا دیتے ہیں ۔ لہٰذ ا بہتر یہ ہے کہ کھجوروں کو چند منٹ کیلئے پانی میں بھگو دیں ۔ تاکہ مکھیوں کی بیٹ اورمیل کچیل چھو ٹ جائے ۔ پھر دھوکراستعما ل فرمائیں ۔ درخت کی پکی ہوئی کھجوریں زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔
(25) مدینۂ منورہ    زَادَھَا اللّٰہُ شَرْفًاوَّتَعْظِیْمًا   کی کھجوروں کی گٹھلیاں مت پھینکئے ۔ کسی ادب کی جگہ ڈالدیجئے یادریا برد فر ما دیجئے ، بلکہ ہو سکے تو سروتے سے باریک ٹکڑیاں کر کے ڈبیہ میں ڈالکر جیب میں رکھ لیجئے اورچھالیہ کی جگہ استعمال کر کے اسکی برکتیں لوٹئے۔ کوئی چیزخواہ دنیا کے کسی بھی خطے کی ہو جب مدینۂ منورہ        زَادَھَا اللّٰہُ شَرْفًاوَّتَعْظِیْمًا    کی فضاؤں میں داخل ہوئی تو مدینے کی ہوگئی لہٰذا عشاق اس کا ادب کرتے ہیں ۔ (فیضان سنت باب فیضان رمضان ج۱ص۱۰۱۸)

مختلف مدنی پھول Mukhtalif Aham Aur Zaruri Madani Phool
مختلف مدنی پھول Mukhtalif Aham Aur Zaruri Madani Phool


Post a Comment

0 Comments