صلٰوۃ وسلام کا بیان Salat-wa-Salam Ka Baayan

    صلٰوۃ وسلام کا بیان 

حمد ِ باری تعالیٰ:


     سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس کی خوشبوئے محبت سے سچے دوست نرم، ہوا بن کراُبھرے۔اس نے رات کے آخری حصوں میں ان سے محبت بھری گفتگو کی ،پس وہ ان کا ہم نشین ہوگیا۔اس نے مناجات کی تنہائی میں پہلے ان کوپاک وصاف پیالوں سے خالص شراب (یعنی جامِ محبت) پلائی پھر ان پر تجلِّی فرمائی تو وہ اس کی محبت میں دیوانے ہوگئے ۔ انہیں اپنی محبت کاجام پلانے والاان کی دیوانگی کوجانتاہے ۔اس نے ہدایت کے لئے ان کوبصیرت سے سرفرازفرمایا، تقویٰ وپرہیزگاری کی دولت سے مالا مال کیا اور سیدھے راستے پر چلایا۔اس نے ان کی طرف مہربان رسول اورصاحبِ عظمت وشرافت نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بھیجا اور اپنے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فضل وشرف کے لئے اپنی مقدّس کتاب''قرآنِ کریم'' میں یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:' 'ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾ ترجمۂ کنزالایمان:وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پروہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے ۔'' (۱)(پ۲۲، الاحزاب: ۴۳)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نبئ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے آبِ زمزم اور حطیمِ کعبہ کو مشرف فرمایا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مجتبیٰ اور مصطفی کی شانوں سے خاص کیا۔اس نے اپنے مبارک ناموں میں سے دوناموں''رء ُو ف ورحیم ''کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کانام رکھا۔لہٰذاجس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شریعت کی پیروی کی اس نے بہت بڑا فضل پا لیا. اورجنت میں تازگی اورنعمتوں کوحاصل کرلیا ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کتنے قیدیوں کو آزادکیا۔ کتنے ہی بے یار و مددگار مساکین کو پناہ دی۔کتنے ہی ٹوٹے دلوں کوجوڑدیا، فقیروں کو غنی کردیا اور یتیموں پر رحم فرمایا۔حضرتِ سیدناآدم صفی اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا و َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کووسیلہ بنایاپس انہوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذاتِ گرامی پردرود شریف بھیجا توعزت وکرامت کے ساتھ لوٹے ۔حضرتِ سیدنا نوح نجی اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے طفیل دعاکی تو
ڈوبنے سے محفوظ رہے ۔حضرتِ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی تو آگ ان پرٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔ جب حضرتِ سیدنااسماعیل ذبیح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرودوسلام کی کثرت کی اور ان کے صدقے مددکے خواستگارہوئے توفدیہ کے ذریعے مدد فرمائی گئی اور یہ نعمتیں اضافے کے بعدبرقراررہیں۔حضرتِ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک پڑھا توانہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہم کلامی کاشرف عطاہوااورحضرتِ سیدنا عیسیٰ روح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضورِ انور، شافعِ محشر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی آمدکی بشارت وخوشخبری دی توانہوں نے رفعت وسبقت کوپالیا ۔اوررحمتِ عالم ، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات والاصفات ہی ہے جس پر درختوں اور پتھروں نے سلام پڑھا اورمقدس فرشتوں نے درود پاک بھیجاتو اب وہ ربِّ لَمْ یَزَل عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس نعمت پرنازاں ہیں۔
    اے نافرمانوں کے گروہ !تمہیں کس چیز نے مکی مدنی سلطان ،رحمت عالمیان ، سرداردوجہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پاک پڑھنے سے غافل کررکھاہے۔ درودِ پاک تووہ عظیم عبادت ہے جوبڑے بڑے گناہوں کومٹادیتی اور پڑھنے والے کوعزت وتکریم عطاکرتی ہے۔پس تم حضورنبئ رحمت ،شفیعِ امت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر کثرت سے درود شریف پڑھاکرو اوران کی ایسی تعظیم و ادب کروجس کاتمہارے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں حکم فرمایا ہے ۔اس طرح تم جنت اور اس کی نعمتوں سے سرفرازکئے جاؤگے اور عذاب اورنارِدوزخ سے بچ جاؤگے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اس شان کو بیان فرمایاجوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اخلاقِ عالیہ اورمخلوق کے متعلق ہے۔چنانچہ،ارشادِباری تعالیٰ ہے: ''وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے ۔''0 (پ۲۲، الاحزاب: ۴۳)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضورنبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اُس امتی کوجنت میں فضیلت ومرتبہ کی بشارت دی ہے جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرودِپاک پڑھا۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌ ۚۖ وَاَعَدَّ لَہُمْ اَجْرًا کَرِیۡمًا ﴿۴۴﴾ ترجمۂ کنزالایمان:ان کے لئے ملتے وقت کی دعا سلام ہے اور ان کے لئے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے۔''(2)(پ۲۲:الاحزاب:۴۴)
    تواے اسلامی بھائیو! تم منبعِ جود وسخاوت ،قاسِمِ نِعمت ،سراپارَحمت،شافِعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود شریف کی
کثرت کروکہ درودِپاک غموں اور مصیبتوں کودورکرتااور بیماریوں سے شفادیتاہے۔ اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرودپاک پڑھنے کاحکم تو خود اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دیاہے ۔ وہ تمہیں خبردار کرتے ہوئے،سمجھاتے ہوئے ،یاددلاتے ہوئے اورسکھاتے ہوئے ارشادفرمارہاہے:

 (1) اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿56﴾

ترجمۂ کنزالایمان :بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی)پر۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔(پ22،الاحزاب:56)
    حضرت سیِّدُنا ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوا،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے چہرے پر بشاشت (یعنی خوشی )کے آثار تھے،میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں نے کبھی آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو آج کی طرح اتناخوش وخرم اور ہشاش بشاش نہیں دیکھا ۔'' تو ارشاد فرمایا:''آج میں کیونکر خوش نہ ہوں گا کہ ابھی میرے پاس جبرائیلِ امین علیہ الصلٰوۃوالسلام آئے اور عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا جو امتی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پرایک بار درود بھیجے اس کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں،دس گناہ معاف ہوتے ہیں اوردس درجات بلند ہوتے ہیں اور مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ بھی درودِ پاک بھیجنے والے کی مثل کہتا ہے۔''

(المسند للامام احمدبن حنبل،حدیث ابی طلحۃ، الحدیث۱۶۳۵۲،ج۵، ص۵0۹)

    ایک دوسری روایت میں ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ د رود پڑھنے والے پر اس کے قول کی مثل رحمتیں اور برکتیں لوٹاتا ہے۔''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''شانِ نزول: حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ نازل ہوئی تو حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یارسُول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم جب آپ کو اللہ تعالیٰ کوئی فضل و شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔''
2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' ملتے وقت سے مراد یا موت کا وقت ہے یا قبروں سے نکلنے کایا جنّت میں داخل ہونے کا ۔ مروی ہے کہ حضرت ملک الموت کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں فرماتے ۔حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب ملک الموت مؤمن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تیرا رب تجھے سلام فرماتا ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ مؤمنین جب قبروں سے نکلیں گے تو ملائکہ سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں سلام کریں گے ۔''(جمل وخازن)
    صلٰوۃ وسلام کا بیان  Salat-wa-Salam Ka Baayan
    صلٰوۃ وسلام کا بیان  Salat-wa-Salam Ka Baayan


Post a Comment

0 Comments