Roza Nafil Ke 12 Madani Phool روزۂِ نَفْل کے 12مَدَنی پھول

’’یاسلطانِ مدینہ‘‘  کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے   روزۂِ نَفْل کے 12مَدَنی پھول

(1)ماں باپ اگر بیٹے کو نَفْل روزے سے اِس لئے منْع کریں کہ بیماری کا اندیشہ ہے تو والِدَین کی اطاعت کرے۔            (رَدُّالْمُحتار ج۳ص۴۷۸)
(2)شوہر کی اجازت کے بِغیر بیوی نَفْل روزہ نہیں رکھ سکتی۔ (دُرِّمُخْتار، رَدُّالْمُحْتارج۳ص۴۷۷)
(3) نَفْل روزہ قَصْد اً  شروع کرنے سے پورا کرنا واجِب ہوجاتا ہے اگر توڑے گا تو قضا ء واجِب ہوگی۔
(دُرِّمُخْتار ج۳ص۴۷۳)
(4) نَفْل روزہ جان بوجھ کر نہیں توڑا بلکہ بِلا اختیار ٹوٹ گیا مَثَلاً عورت 
کوروزہ کے دَوران حَیض آگیا تو روزہ ٹوٹ گیامگر قضاء واجِب ہے۔   (ایضا ص۳۷۴)
(5)نَفْل روزہ بِلاعُذْر توڑنا ناجائز ہے ۔مہمان کے ساتھ اگر مَیزبان نہ  کھائے گا تو اُسے یعنی مِہمان کونا گوار گُزرے گا، یا مِہمان اگر کھانا نہ کھائے تو مَیزبان کواَذِیّت ہوگی تونَفْل روزہ توڑنے کیلئے یہ عُذْر ہے بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قَضا رکھ لیگااور یہ بھی شَرْط ہے کہضَحْوۂِ کُبْر ی  سے پہلے توڑے بعد کو نہیں ۔  (دُرِّمُخْتار، رَدُّالْمُحْتار ج ۳ ص۴۷۵)
(6)والِدَین کی ناراضگی کے سبب عَصْر سے پہلے تک نَفْل روزہتوڑ سکتا ہے ۔ بعدِ عَصْر نہیں ۔
(دُرِّمُخْتار، رَدّالْمُحْتارج۳ص۴۷۷)
  (7)اگر کسی اسلامی بھائی نے دعوت کی تو ضَحْوۂِ کُبریٰسے قَبْل روزۂ نَفْل  توڑسکتا ہے مگر قَضاء واجِب ہے۔      (دُرِّمُختار ج۳ص۴۷۷)
 (8)اِس طرح نِیَّت کی کہ ’’ کہیں دعوت ہوئی تو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تو ہے۔ ‘‘ یہ نِیَّت صحیح نہیں ، بَہَرحال روزہ دار نہیں ۔         (عالمگیری ج۱ص۱۹۵)
(9)ملازِم یا مزدور اگر نفلی روزہ رکھیں توکام پُورا نہیں کرسکتے تو ’’مُسْتَاجِر ‘‘  (یعنی جس نے مُلازَمت یا مزدوری پر رکھا ہے)کی اجازت ضَروری ہے۔اور اگر کام پوراکرسکتے ہیں تواجازت کی ضرورت نہیں ۔    (دُرِّمُخْتار ج ۳ ص ۴۷۸)
(10)حضرتِ سَیِّدُنا داؤد      علٰی نَبِیّنا وَعَلَیْہِ الصّلٰوۃُ وَالسَّلام   ایک دن
 چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے۔اس طرح روزے رکھنا’’صَومِ داو‘دی ‘‘کہلاتا ہے اور ہمارے لئے یہ افضل ہے۔ جیسا کہ رسولُ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    وَ صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا  :   افضل روزہ میرے بھائی داوٗد(علیہ السلام ) کا روزہ ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دِ ن نہ رکھتے اور دشمن کے مقابلے سے فرار نہ ہوتے تھے‘‘۔ (سُنَنُ التِّرْمِذِی  ج۲ص۱۹۷حدیث۷۷۰)
(11)حضرتِ سَیِّدُناسُلَیمان     عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  تین ۳  دن مہینے کے شروع میں ، تین ۳  دن وَسْط میں اور تین ۳  دن آخِر میں روزہ رکھا کرتے تھے اور اس طرح مہینے کے اَوائِل، اَوَاسِط اوراَواخِر میں روزہ دار رہتے تھے۔
(کَنْزُالْعُمّال ج۸ص۳۰۴حدیث۲۴۶۲۴)
(12)سارا سال روزے رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔(دُرِّمُخْتار ج۳ص۳۳۷)
یاربِّ مصطَفٰے   عَزَّ وَجَلَّ    و صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    ہمیں زندَگی ، صحّت اور فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے خوب خوب نفلی روزے رکھنے کی سعادت عطا فرما، انہیں قبول بھی کر اور ہماری اور  ہمارے میٹھے میٹھے محبوب صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کی ساری اُمّت کی مَغْفِرت فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Roza Nafil Ke 12 Madani Phool  روزۂِ نَفْل کے 12مَدَنی پھول
Roza Nafil Ke 12 Madani Phool  روزۂِ نَفْل کے 12مَدَنی پھول








Post a Comment

0 Comments