صَغِیْرہ گنا ہوں کا کفّارہ
حضرتِ سَیِّدُنا ا بُوہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے ، حضور پُر نور، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ پُر سُرُور ہے : ’’پانچوں نَمازیں ، اور جُمُعہ اگلے جُمُعہ تک اور ماہِ رَمَضان اگلے ماہِ رَمَضان تک گناہوں کا کَفّارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔‘‘ (صَحِیح مُسلِم ص ۱۴۴حدیث۲۳۳)
توبہ کا طریقہ
سُبحٰنَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضانُ الْمبارَکمیں رَحمتوں کی چَھمَاچَھم بارِشیں اور گناہِ صغیرہ کے کَفّارے کاسامان ہوجاتا ہے۔
گناہِ کبیرہ توبہ سے مُعاف
ہوتے ہیں ۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جوگناہ ہواخاص اُس گناہ کا ذِکْر کرکے دل کی بَیزاری اور آئندہ اُس سے بچنے کا عہدکرکے توبہکرے۔مَثَلاً جھوٹ بولا ، تو بارگاہِ خُداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کرے، یا اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ میں نے جویہ جھوٹ بولا اِس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔ توبہ کے دَوران دل میں جھوٹ سے نفرت ہو اور’’ آئِندہ نہیں بولوں گا‘‘ کہتے وَقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کرو ں گاجبھی توبہ ہے۔اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُس بندے سے مُعاف کروانا بھی ضَروری ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
![]() |
| گناہِ کبیرہ توبہ سے مُعاف Gunah-e-Kabeera Se Toba se Muaf |


0 Comments