Aashura Ke Rozey Ke 4 Fazail عا شورہ کے روزے کے 4 فضائل

’’ حُسَین‘‘ کے چار حُرُوف کی نسبت سے عا شورہ کے روزے کے 4 فضائل

(1)حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ    ابنِ عبّاس رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ارشاد ِگرامی ہے ، ’’رسولُ اللّٰہ(    عَزَّ وَجَلَّ    و  صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   )جبمدینۃُ الْمُنَوَّرہ زادَھَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْما میں تشریف لائے، یَہُو د کو عاشورہ کے دن روزہ دار پایا توارشاد فرمایا  :   یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟عَر ض کی  :   یہ عظمت والا دن ہے کہ اِسمیں موسٰی علیہِ الصّلٰوۃ وَ السّلام اوراُن کی قوم کو  اللہ      تَعَالٰی  نے نَجات دی اور فرعون اوراُس کی قوم کو ڈَبو دیا۔ لہٰذا موسٰیعلیہِ الصّلٰوۃ وَالسّلامنے بطورِشکرانہ اِس دن کا روزہ رکھا، توہم بھی روزہ رکھتے ہیں ۔ارشاد فرمایا  :   موسٰی علیہِ الصّلٰوۃ وَالسّلامکی مُوافَقَت کرنے میں بہ نسبت تمھارے ہم زیادہ حقدار اور زیادہ قریب ہیں ۔ تو سرکار   صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے خُود بھی روزہ رکھا اور اِس کا حُکْم بھی فرمایا۔  (صَحِیحُ البُخارِیّ  ج۱ص۶۵۶حدیث۲۰۰۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حدیث ِپاک سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ     عَزَّ وَجَلَّ   کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اُس کی یادگار قائم کرنا دُرُست و محبوب ہے کہ اس طرح اُس نعمت ِعُظْمٰی کی یاد تازہ ہوگی اوراُس کا شکر ادا کرنے کا سبب بھی ہوگا۔


(2)حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ    ابنِ عبّاس رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ، ’’میں نے سلطانِ دوجہان، شَہَنشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان  صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو کسی دن کے روز ہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستْجوفرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رَمَضان کا مہینہ۔‘‘ (صَحِیحُ البُخارِیّ ج۱ص۶۵۷حدیث۲۰۰۶)
(3)نبیِّ رَحمت ، شفیعِ امّت، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت ، تاجدارِ رسالت  صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا  :    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی مخالَفَت کرو، اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
( مُسْنَد اِمَام اَحْمَد ج۱ص۵۱۸ حدیث۲۱۵۴)  
یعنی عاشورہ کا روزہ جب بھی رکھیں تو ساتھ ہی نویں ۹   یا گیارہویں ۱۱         مُحرَّمُ الحرامکا روزہ بھی رکھ لینا بہتر ہے۔  
                                             (4)حضرتِ سیِّدُنا ابوقَتادہ    رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   سے ر وایت ہے، رسولُ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    و  صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   فرماتے ہیں  :    مجھے اللّٰہ پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روزہ ایک سال قبل کے گُناہ مِٹادیتاہے۔          ( صَحِیح مُسلِم ص۵۹۰حدیث۱۱۶۲)
Aashura Ke Rozey Ke 4 Fazail عا شورہ کے روزے کے 4 فضائل
Aashura Ke Rozey Ke 4 Fazail عا شورہ کے روزے کے 4 فضائل

Post a Comment

0 Comments