صحرائے مدینہ(باب المدینہ کراچی) کی دُعا کا اِبتدائیہ :
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَللّٰھُمَّ(رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ)(پ۲،البقرة : ۲۰۱)
اَللّٰھُمَّ(رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ(۲۵۰))(پ۲، البقرة : ۲۵۰)
اَللّٰھُمَّ(رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ )(پ۴، اٰل عمران : ۱۴۷)
اَللّٰھُمَّ ( رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ)(پ۸، الاعراف : ۲۳)
اَللّٰھُمَّ ( رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) (پ ۱۵، بنٓی اسرآئیل : ۲۴)
اَللّٰھُمَّ ( فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ- اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ) (پ ۱۳، یوسف : ۱۰۱)
اَللّٰھُمَّ (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰)رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ)(پ ۱۳، ابراھیم : ۴۱-۴۰)
اَللّٰھُمَّ ( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا) (پ ۱۹، الفرقان : ۷۴)
اَللّٰھُمَّ( رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ) (پ ۲۸، الحشر : ۱۰)
اَللّٰهُمَّ اَعِنِّيْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِكَ (1) يَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِيْنِكَ (2)
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هٰؤُلَاءِ الْاَرْبَع(3)
یَا اَرْحَمَ الرّٰ حِمِیْن...! یَااَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن...! یَااَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یااللہُ...! یارَحْمٰنُ...! یارَحِیْمُ ...!
اے مریضوں کو شفا دینے والے ...!!! اے ہم گناہ گاروں کے عیبوں کو چھپانے والے ...!!! اے پریشان حالوں کی پریشانیاں دُور کرنے والے مولا...!!! اے ہم ذَلیلوں کے سروں پر عزت کا تاج سجانے والے ...!!!تیرے سیاہ کار بدکار بندے حاضر ہیں...!!!
کر کے توبہ پھر گناہ کرتا ہے جو
میں وہی عطار ہوں کردو کرم
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!گناہوں سے گندہ نامَۂ اعمال لیے حاضر ہیں...ہاتھ بھی گناہوں سے سیاہ، چہرہ بھی گناہوں کی سیاہی سے کالا کالا ہے ...مولا! دل بھی کالا کالا ہے ...رُواں رُواں گناہوں میں لِتھڑا ہوا ہے ....مولا! ہمارے قلب کی سختی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے ... اے مولا! ہمارا حال بہت بُرا ہے ۔
آہ! ہر لمحہ گنہ کی کثرت و بھرمار ہے
غلبۂ شیطان ہے اور نفسِ بد اطوار ہے
مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شُعْلہ بار ہے
ہر گنہ قصداً کیا ہے اس کا بھی اقرار ہے
چھپ کے لوگوں سے گناہوں کا رہا ہے سلسلہ
تیرے آگے یا خدا! ہر جرم کا اِظہار ہے
٭…٭…٭…٭…٭…٭
________________________________
1 - ابوداود، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۳، حدیث : ۱۵۲۲
2 - ترمذی، کتاب القدر ، باب ماجاء ان القلوب...الخ، ۴ / ۵۵، حدیث : ۲۱۴۷
3 - ترمذی، کتاب الدعوات ، باب : ت۶۹، ۵ / ۲۹۳، حدیث : ۳۴۹۳

0 Comments