كن باتوں کی دُعا کرنا منع ہے ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُعا کرنے والے کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہاللہ کریم کی بارگاہ سے کیا مانگنا ہے اور کس طرح مانگنا ہے ؟ بسااوقات ممنوع وناجائز چیزوں کی دُعا مانگی جارہی ہوتی ہے اور کبھی دُعا تو جائز چیزوں کے متعلق ہوتی ہے مگر الفاظ ایسے استعمال کیے جاتے ہیں جو اللہ پاک کی شان کے لائق نہیں ہوتے اور کبھی عافیت مانگنے کے بجائے آفت مانگی جا رہی ہوتی ہے جیسا کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک دُعا مانگنے والے شخص کویہ کہتے سُنا : ” الٰہی !میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں ۔ “ فرمایا : ” تُو آفت مانگ رہا ہے ، اﷲ عَزَّوَجَلَّ سے عافیت مانگ ۔ “ (3)
اِس حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسّر، حکیمُ الاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ دُعا کے اَلفاظ بھی اچھے چاہئیں اور نیت بھی اعلیٰ، وہاں لفظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہے ۔ (1)
..................................................................................
3 - ترمذی، کتاب الدعوات ، باب (ت : ...)، ۵ / ۳۱۲، حدیث : ۳۵۳۸
1 - مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۴۰

0 Comments