دُعائے شبِ قدر کا اِبتدائیہ :

دُعائے شبِ قدر کا اِبتدائیہ : 

میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی چند روز پہلے ہی کی بات ہے کہ ہر ایک کے لب پر یہ بات تھی کہ عنقریب رمضان شریف کی آمد ہونے والی ہے اور پھر واقعی اپنے جلووں 
میں رَحمتیں اور بَرکتیں لیے ہوئے ہِلالِ رمضان آسمانِ دنیا پر ظاہر ہوگیا... ہر طرف خُوشی کی لہر دوڑ گئی ، ہر مسلمان شادمان ہوگیا، مسجدوں میں بہاریں آگئیں ، بزمِ اِفطار سجائی جانے لگی... ہر طرف رونقیں ہی رونقیں ہوگئیں، نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، یہ خوشی کے دن بڑی جلدی اور تیزی سے گزرتے چلے گئے ...اور آہ !اب ستائیسویں رات آپہنچی... اس وقت ماہِ رمضان کے صرف تین یا چار دن رہ گئے ۔ تو جو  رمضان کے قدردان تھے ، آنے پر خوش ہوگئے اور اب جیسے جیسے رمضان کی رخصت کی گھڑی قریب آرہی ہے عُشّاقِ رمضان کے دل ڈوبے جا رہے ہیں...غم کے بادل ان پر چھائے جارہے ہیں، غمِ رمضان کے ماروں اور رمضان کی فرقت کے دل فگاروں کی ترجمانی کرتے ہوئے کسی نے اَلوداع کہی ہے ، اشک بار ہوکر اس الوداع کو دل کے کانوں سے سنیے اور اپنے اندر افسوس کی کیفیت پیدا ہونے دیجیے ...
آہ ! کیا ماہِ مبارک ہم سے ہوتا ہے جُدا آہ! کیسا منبعِ برکات دُنیا سے چلا
آہ! جب اس میں نہیں ہم سے ہوئی طاعت ادا پھر وداع اس کونہ کیوں رو رو کریں ایسا بجا
الوداع الوداع  اے ماہِ غفراں ! الوداع حسرتا وا حسرتا اے ماہِ رمضاں الوداع
اَلْوَدَاعاَلْوَدَاع یا شَھْرَرَمَضان...اَلْفِراق اَلْفِراق یا شَھْرَ غُفران...الوداع الوداع یا شَھْرَ تراویح... اَلْفِراق اَلْفِراق یا شَھْرَ تَراویح... الوداع الوداع یا شَھْرَرَمَضان ... اَلْفِراق اَلْفِراق یا شَھْرَ رَمَضان ... اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن


 اے ربِّ مصطفے ٰ! تو نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ماہِ رمضان عطا فرمایا، جس کی ہر گھڑی رحمت بھری ہے ... لمحہ لمحہ نیکیوں کا پیام... رحمتوں کی چھما چھم بارشیں... جنّت کے دروازے سب کُھل گئے ... دوزخ پر تالے پڑ گئے ... شیطان بھی قید کرلیا گیا...خوب خوب برکتیں اور رحمتیں نازل ہوئیں...آہ! ہم غافل لوگ پھر بھی ماہِ رمضان کی رحمتوں سے حصہ نہ لے سکے ... افسوس !ماہِ رمضان کی قدر نہ کرسکے ، نیکیوں کا اجر و ثواب بہت زیادہ بڑھا دیا گیا لیکن  ہائے افسوس !نیکیاں نہ کر سکے بالآخر آج ستائیسویں شب آگئی..... ظاہر اچھا رہا باطن وہی میلا کچیلا ، سیاہ اور کالا...اے پروردگار! جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا مانگی کہ جو رمضان کو پالے مگر اپنی مغفرت نہ کراسکے تو اس کی ناک خاک آلود ہوجائے ، وہ شخص برباد ہوجائے ، باوجود رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین ہونے کے ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے آمین کی مہر لگادی... (1) تو یقیناً جو ماہِ رمضان پا لینے کے باوجود مغفرت اور بخشش سے محروم رہ گیا وہ ہلاک اور برباد ہوا... اے مالکِ کریم!ہم نے اپنی مغفرت کرانے کا کوئی سامان نہیں کیا ۔ اے پروردگار! اگر ہماری مغفرت نہ ہوئی تو ہم برباد ہوجائیں گے ...اے مالکِ کریم ! اے رسولِ کریم کے پروردگار! تجھے تیرے رحمت والے محبوب کا واسطہ ہماری مغفرت کر دے ...اے ربِ کریم ! ہم نے عشرۂ رحمت غفلت میں گزارا ، عشرۂ مغفرت بھی جا چکا، اب جہنم سے آزادی کا عشرہ بھی رُخصت ہونے پر ہے ، اے اللہ!ہم ناتوانوں اور کمزوروں پر رحم کر دے ... اے پروردگار! تجھے تیرے محبوب کے پاکیزہ آنسوؤں کا 

صدقہ ، ہم پر جہنم کی آگ ٹھنڈی کر دے ...
٭…٭…٭…٭…٭…٭

________________________________
1 -     کنز العمال، کتاب الصوم، باب فصل فی فضلہ و فضل رمضان، الجزء : ۸، ۴ / ۲۷۰، حدیث : ۲۴۲۹۰ ماخوذاً

Post a Comment

0 Comments