اللہ تعالیٰ کو کن ناموں کے ساتھ پکارنا منع ہے ؟

اللہ تعالیٰ کو کن ناموں کے ساتھ پکارنا منع ہے ؟

دُعا مانگنے والے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کن ناموں کے ساتھ اللہ پاک کو پکار سکتے ہیں اور کن کے ساتھ نہیں؟اللہ  کریم کا فرمانِ عالیشان ہے:
 ) وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-)
(پ۹، الاعراف : ۱۸۰) ترجمۂ کنز الایمان :  ” اور  اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں ۔  “ 
اللہ تعالیٰ کے ناموں میں حق و اِستقامت سے دور ہونا کئی طرح سے ہے ۔ ایک تو یہ ہے کہ  اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اِطلاق کرنا، جیسا کہ مشرکین نے اِلٰہ کا ’’ لات‘‘ اور عَزِیز کا’’ عُزّیٰ‘‘ اور مَنَّان کا ’’مَنَات‘‘ کرکے اپنے بتوں کے نام رکھے 

تھے ، یہ ناموں میں حق سے تَجاوُز اور ناجائز ہے ۔ دوسرا یہ کہ اللہتعالیٰ کے لئے ایسا نام مقرر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کو سخی کہنا کیونکہ اللہتعالیٰ کے اَسماء تَوقِیفیہ (یعنی شریعت کی طرف سے مقرر کردہ) ہیں ۔ تیسرا  یہ کہ حُسنِ ادب کی رعایت نہ کرنا ۔ چوتھا یہ کہ اللہتعالیٰ کے لئے کوئی ایسا نام مقرر کیا جائے جس کے معنیٰ فاسد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے ، جیسے کہ لفظ رام (یعنی ہر چیز میں رما ہوا ، ہر شے میں حلول کیا ہوا)اور پَرمَاتُما (ہندوؤں کے تین دیوتاؤں برہما، وِشنو اور شِو  کا مشترکہ نام) وغیرہ ۔  پانچواں یہ کہ ایسے اَسماء کا اطلاق کرنا جن کے معنی معلوم نہیں ہیں اور یہ نہیں جانا جاسکتا کہ وہ جلالِ الٰہی کے لائق ہیں یا نہیں ۔ (1)  
مشہور مُفَسّرِ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  اﷲ تعالیٰ کے نام توقیفی ہیں کہ شریعت نے جو بتائے ، ان ہی ناموں سے پکارا جائے اپنی طرف سے نام اِیجاد نہ کئے جائیں اگرچہ ترجمہ ان کا صحیح ہو لہٰذا ربّ کو عالِم کہہ سکتے ہیں، عاقِل نہیں کہہ سکتے ، اسے جوَّاد کہیں گے نہ کہ سخی، حکیم کہیں گے نہ کہ طبیب ۔ خدا  ربّ کا نام نہیں بلکہ ایک صفت یعنی مالک کا ترجمہ ہے جیسے پروردگار، پالنہار، بخشنے والا وغیرہ ۔ (2) جن اَلفاظ کے ساتھ اللہ پاک کو نہیں پکار سکتے ، ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے : 

اے حاضر ! اے  ناظر !   نہ کہیں : 

اللہ پاک کو حاضر و ناظر کہنے کی ممانعت ہے چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اللہ
 عَزَّوَجَلَّ شہید و بصیر ہے ، اسے حاضر و ناظر نہ کہنا چاہئے یہاں تک کہ بعض عُلماء نے اس پر تکفیر (یعنی حکمِ کفر لگانے )کا خیال فرمایا اور اکابِر(یعنی بڑے علمائے کرام) کو اِس کی نفی  کی حاجت ہوئی، مجموعہ علامہ ابن وہبان میں ہے :   ”  یَا حَاضِرُ  یَا نَاظِرُ  لَیْسَ بِکُفْرٍ یعنی اے حاضر! اے ناظر !کہنا کفر نہیں ہے  ۔ “ جو ایسا کرتا ہے ، خطا کرتا ہے ، بچنا چاہئے  ۔  “ (1) لہٰذا ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کو حاضر وناظر کہنے کے بجائے سمیع وبصیر کہنا چاہیے ۔ 

اس طرح کے جملوں سے لازمی بچئے : 

 ” اے اوپروالے !ہماری فریاد سُن لے ! “  دُعا میں اور دعا کے علاوہ بھی  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے لیے یہ کلمات کہنے کی اجازت نہیں ۔ 
اسی طرح دُعا میں یوں کہنے سے بھی بچئے :  ” اے آسمان سے دیکھنے والے ! ہماری فریاد سُن لے  ۔ “ البتہ یوں کہنے میں حَرج نہیں کہ  ” اے ہمارے دِلوں پر نظر رکھنے والے ! ہماری فریاد سُن لے “ 
دعا میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں کہ دُعا  کا قبلہ آسمان ہے لہٰذا ہاتھ بلند کرتے ہوئے ایسے الفاظ کہنا حرام ہے کہ اے عرش پہ رہنے والے ! ہم نے تیری طرف ہاتھ اٹھا دیئے ہیں البتہ یوں کہنے میں حَرج نہیں :  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم نے تیری بارگاہ میں ہاتھ اُٹھا دیئے ہیں ۔ 
اوپر منع کردہ جملوں سے اللہ  پاک کے لئے سَمت(Direction)کا ثُبُوت ہوتا ہے اور اس کی ذات جِہَت سے پاک ہے  ۔ حضرتِ سَیِّدُنا علَّامہ سعدُالدِّین تَفْتازانی قُدِّسَ سِرُّہُ 
النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ مکان میں ہونے سے پاک ہے اور جب وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے تو جِہَت(یعنی سَمت)سے بھی پاک ہے ۔ (اِسی طرح ) اُوپر اور نیچے ہونے سے بھی پاک ہے ۔ (1)حضرتِ علامہ ابنِ نجیم مِصری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں  : جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اُوپر یا نیچے قرار دے تو اُس پر حکمِ کُفر لگایا جائے گا ۔ (2)  لیکن اگر کوئی  شخص یہ جملہ بُلندی و برتَری کے معنیٰ میں استعمال کرے تو قائِل پر حکمِ کفر نہ کریں گے مگر اِس قَول کو بُرا ہی کہیں گے اورقائِل کو اِس سے روکیں گے  ۔ (3) 
صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطريقہ حضرت علامہ مَوْلانامفتی محمد امجَد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مکان ثابِت کرنا  کُفْر ہے کہ وہ مکان سے پاک ہے ، یہ کہناکہ ” اوپر خُدا ہے نیچے تم  “ یہ کَلِمَۂ کُفْر ہے ۔ (4)

________________________________
1 -     صراط الجنان، ۳ / ۴۸۰ تا ۴۸۱ 
2 -      مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۳۲۵  

________________________________
1 -     شرحُ الْعقائد، ولا یتمکن فی مکان، ص۱۳۱ ملتقطاً 
2 -     بَحْرُ الرَّائِق ، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ۵ / ۲۰۳ ماخوذاً 
3 -     فتاویٰ فیض الرسول، ۱ / ۳  
4 -     بہارِ شریعت، ۲ / ۴۶۲ 


Post a Comment

0 Comments