تجھے تیرے سرکار کا واسطہ! نہ کہیں :
دعا میں الفاظ کا تکرار مکمل احتیاط کے ساتھ کیجئے کیونکہ معمولی سی غلطی بھی بہت خطرناک ہو سکتی ہے مثلاً اے اللہپاک! تجھے تیرے محبوب کا واسطہ! تجھے تیرے حبیب کا واسطہ! تجھے تیرے نبی کا واسطہ! تجھے ہمارے سرکار کا واسطہ! تجھے ہمارے آقا کا واسطہ! ہماری بخشش کردے ... اب اگر یہاں بے خیالی ہوئی تو زبان کی تیزی کے باعث ” تیرے تیرے “ کی تکرار میں یہ الفاظ بھی نکل سکتے ہیں : ” اے اللہ پاک ! تجھے تیرے
سرکار کا واسطہ! تجھے تیرے آقا کا واسطہ! “ یوں ہی یہ الفاظ بھی بے توجہی کے سبب زبان پر آسکتے ہیں : ” اے اللہ!اپنے آقا کا جنت میں پڑوس نصیب فرما ۔ “ وغیرہ ۔ لہٰذا احتیاط کرتے ہوئے ان سب سے بچنا ضروری ہے ۔
تو بخشنے پر آئے تو مشرک بھی بخشا جائے ! نہ کہیں :
دعا میں اللہ پاک کی وسیع رحمت کا تذکرہ کرتے ہوئے بے توجہی کی بنا پر اس طرح کے الفاظ بھی نکل سکتے ہیں : ” اے اللہ! تو غَفَّار ہے ، تو رحمٰن ہے ، تو رحیم ہے ، مولا! تو بخشنے پر آئے تو کافر و مشرک کو بھی بخش دے ، مولا! ہم تو مسلمان ہیں تیرے محبوب کے اُمَّتی ہیں ، مولا!ہمارے گناہ بخش دے ۔ “ ان الفاظ میں ” یہ کہنا کہ ” اللہ تعالیٰ بخشنے پر آئے تو کافر و مشرک کو بھی بخش دے “ کلمۂ کفرہے ( کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ جو کفر کی حالت میں مرا ، اُس کی بخشش نہ فرمائے گا) ۔ “ (1) جیسا کہ پارہ 5 سورۃ النساء کی آیت نمبر 48 میں اِرشاد ہے : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-)ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے ۔
اے سخی!سخاوت کر دے ! نہ کہیں :
اللہ پاک کے لیے ” سخی “ کا لفظ اِستعمال کرنے کی بجائے ” جَواد “ کا لفظ استعمال کیجیے کہ مشہور مُفَسّر، حکیمُ الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : مُحاوَرَہِ عَرَب میں عُمُوماً ” سخی “ اُسے کہتے ہیں جو خود بھی کھائے اوردوسروں کو بھی
کِھلائے ۔ ” جَواد “ وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کِھلائے ۔ اِسی لیے اللہ تعالیٰ کو ” سخی “ نہیں کہا جاتا ۔ (1)پارہ 7 سورۃُ الانعام کی آیت نمبر 14 میں اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے (وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُؕ-) ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے ۔
تو ہمیں مت بھول جانا! نہ کہیں :
بعض اوقات دعا کرنے والا جذبات میں ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے کہ ” یااللہ! ہم تجھے بھول گئے مگر تُو ہمیں نہ بھول جانا “ یہ جملہ کفریہ ہے اس لیے کہ اللہ پاک بھول جانے سے پاک ہے اور ہر وہ بات جس میں اللہ پاک کی طرف بُھول جانا ثابت کیا جائے خالِص کُفر ہے چُنانچِہ پارہ 16 سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر52 میں ارشاد ہوتا ہے ) لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘(۵۲)) ترجمۂ کَنْزُ الايمان : میرا رب نہ بہکے نہ بُھولے ۔
اپنے فارغ اوقات میں ہماری دعا سن لے ! نہ کہیں :
اللہ کریم فراغت و مصروفیت سے پاک ہے لہٰذا دعا میں ایسے الفاظ استعمال نہ کرنا فرض ہے ، جن سے اس کے لیے یہ مذموم(بُرا) وصف نکلتا ہو ۔ مثلاً یوں کہنا ” اے اللہ! ہم صبح صبح یا رات کے آخری پہر میں تجھ سے دعا کر رہے ہیں"جو تیری بھی فراغت کا وقت ہوگا" لہٰذا ہماری ساری حاجات پر نظر فرمالے ۔ “ بعض نادان دوسروں کو صبح صبح دعا مانگنے کی ترغیب دلاتے ہوئے اس طرح کا جملہ کہہ دیتے ہیں کہ ” صبح صبح دعا مانگ لیا
کرو اس وقت اللہ فارغ ہوتا ہے ۔ “ یہ کفریہ جملہ ہے چنانچہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ” ایمان کی حفاظت “ کے صفحہ 31 پر ہے : یہ کہنا کہ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو ، اس وقت اللہ فارغ ہوتا ہے کفر ہے ۔
مجھ پر تنگدستی ڈال کر ظلم نہ کر! نہ کہیں :
اللہ پاک کی طرف ظلم کی نسبت کرنا، اسے ظالِم کہنا کفر ہے لہٰذا دُعا میں یوں کہنا کہ ” اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے رِزق دے اور مجھپر تنگدستی ڈال کر ظلم نہ کر ۔ “ کفرہے ۔ (1)
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-)(پ۵، النساء : ۴۰) ترجمہ کنز الایمان : اللہایک ذرّہ بھر ظلم نہیں فرماتا ۔
اے اللہ میاں! نہ کہیں :
اللہ پاک کے لیے ” میاں “ کا لفظ بولنا ممنوع ہے ۔ اللہ پاک، اللہ تعالیٰ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اللہ تبارَکَ وَ تعالٰی وغیرہ بولنا چاہئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : (اللہ تعالیٰ کے لئے ) مِیاں کا اِطلاق نہ کیا جائے (یعنی نہ بولا جائے ) کہ وہ تین معنیٰ رکھتا ہے ، ان میں دو (معنیٰ) ربُّ العزت کے لئے مُحال (یعنی ناممکن) ہیں ۔ مِیاں (کے تین معنیٰ یہ ہیں) ” آقا اور شوہر اور مردوعورت میں زِنا کا دلال “ لہٰذا اِطلاق مَمنوع (یعنی اس لیے اللہ تعالیٰ کو میاں کہنا منع ہے ) ۔ (2)
________________________________
1 - ایمان کی حفاظت، ص ۷۳


0 Comments