نَمازکے بعد پڑھے جانے والے اَوراد
![]() |
| Namaz Ke Baad Parhe Jane Wale Wazaif - Namaz Ke Baad Ka Wazifa |
نَماز کے بعد جو اَذکارِ طوِیلہ(طویل اَوراد) احادیثِ مبارکہ میں وارد ہیں ، وہ ظُہر و مغرب و عشا میں سنّتوں کے بعد پڑھے جائیں ، قبلِ سُنّت مختصر دُعا پر قَناعت چاہیے، ورنہ سنّتوں کا ثواب کم ہوجائے گا۔ (رَدُّالْمُحتار، ج۲، ص۳۰۰، بہارِ شریعتحصّہ ۳ ص۱۰۷ )
احادیثِ مبارَکہ میں کسی دُعا کی نسبت جو تعداد وارد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اَذکار کے لیے ہیں وہ اسی عَدَد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قُفل(تالا) کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر کنجی
میں دندانے کم یا زائد کر دیں تو اس سے نہ کھلے گا، البتَّہ اگرشُمار میں شک واقِع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادَت(بڑھانا) نہیں بلکہ اِتمام (مکمَّل کرنا) ہے ۔ (اَیضاً ص ۳۰۲ ، اَیضاً)
پنج وقتہ نَمازوں کے سُنَن ونوافِل سے فراغت کے بعد ذَیل کے اَورَاد پڑھ لیجئے سَہولت کے لیے نَمبرضَروردئیے ہیں مگر ان میں تَرتیب شَرط نہیں ہے ۔ ہر وِرد کے اوَّل آخِر دُرُودشریف پڑھنا سونے پہ سُہاگہ ہے۔
(1) ’’آیَۃُ الکُرسی‘‘ایک ایک بار پڑھنے والا مرتے ہی داخلِ جنَّت ہو۔(مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ج۱ ص۱۹۷حدیث۹۷۴)
(2) اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ۔(1) (سُنَنُ اَ بِی دَاوٗدج۲ص۱۲۳حدیث۱۵۲۲)
(3) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔(2)
(تین تین بار )اس کے گناہ معاف ہوں اگرچِہ وہ میدان جہاد سے بھاگا ہوا ہو۔ (سُنَنُ التِّرْمِذِی، ج۵ص۳۳۶حدیث ۳۵۸۸)
(4)تسبیحِ فاطِمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا : سُبْحٰنَ اللّٰہِ تینتیس بار، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تینتیس بار ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ تینتیس باریہ 99 ہوئے، آخر میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ط
لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌط ۔(
ایک بارپڑھ کر(100کا عدد پورا کر لے ) اِس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچِہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
(5) ہر نَماز کے بعدپیشانی کے اگلے حصے پر ہاتھ رکھ کرپڑھے : بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُط اَللّٰہُمَّ اَذْہِبْ عَنِّی الْہَمَّ وَالْحُزْْنَ۔(1) (پڑھنے کے بعد ہاتھ کھینچ کر پیشانی تک لائے) توہر غم وپریشانی سے بچے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے مذکورہ دعاکے آخر میں مزید ان الفاظ کا اضافہ فرمایا ہے ، وَعَنْ اَہْلِ السُّنَّۃ یعنی اوراہلسنت سے ۔
(6)عَصر و فَجر کے بعد بِغیر پاؤں بدلے، بِغیر کلام کییلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ۔(2)دس دس بارپڑھئے۔ ( بہارِ شریعتحصّہ ۳ ص۱۰۷)
(7)حضرتِ سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ نبیِّ رَحمت ، شفیعِ اُمّت ،
شَہَنشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جس نے نَماز کے بعد یہ کہا، ’’ سُبحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وََ بِحَمدِہٖ لَا حَولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہ ۔ (1)تو وہ مغفِرت یافتہ ہو کر اُ ٹھے گا۔ ( مَجْمَعُ الزَّوَائِدج۱۰ص۱۲۹حدیث ۱۶۹۲۸)
(8)حضرتِ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالی عنہما سے رِوایَت ہے اللّٰہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو ہر فرض نَماز کے بعددس مرتبہقُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (پوری سورۃ)پڑھے گا اللہ تَعَالٰی اُس کیلئے اپنی رِضا اور مغفِرت لازِم فرمادے گا۔ (تَفسِیر دُرّمَنثُور ج۸ص۶۷۸)
(9)حضرتِ سیِّدُنا زَید بن اَرقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایَت ہے رسولِ اکرم، رحمتِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :
جو شخص ہرنماز کے بعد سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲) (2) (پ۲۳الصّٰفّٰت۱۸۰تا۱۸۲) تینبار پڑھے گاگویا اس نے اَجر کا بہت بڑاپیمانہ بھر لیا۔
(تَفسِیر دُرّمَنثُور للسیوطی ج۷ص۱۴۱)
________________________________
1 - ا ے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! تواپنے ذِکر،اپنے شکر اوراپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔
2 - ترجمہ : میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا(مانگتی) ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اوراس کی بارگاہ میں توبہ کرتا (کرتی)ہوں


0 Comments