دُرودِ پاک پڑھنے کا شَرْعی حُکْم
صَدْرُالشَّریعہ،بَدْرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامُفْتی محمد اَمجد علی اَعْظمِی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقوِیفرماتے ہیں :’’عُمر میں ایک مرتبہ دُرُودشریف پڑھنا فرض ہے اورہر جلسۂ ذِکر میں دُرُودشریف پڑھنا واجِب خواہ خُود نامِ اَقدس لے یادوسرے سے سُنے۔ اگر ایک مَجلس میں سو بار ذِکر آئے تو ہر بار دُرُودشریف پڑھنا چاہئے۔ اگرنامِ اقدس لیا یا سُنا اور دُرُودشریف اُس وَقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وَقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،۱/۵۳۳)
ہر دَم مِری زباں پہ دُرُود و سلام ہو میری فُضُول گوئی کی عادَت نِکال دو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنے کے جہاں بے شُمارفَضائِل وبَرَکات ہیں ، وہیں نامِ اَقدس سُن
رَحْمتِ الٰہی سے دُ ور
حضرتِ سَیِّدُنا کَعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مِنْبر کے قریب آجاؤ۔‘‘ ہم مِنْبر شریف کے قریب حاضِر ہو گئے، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو اِرشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘جب دوسرے زِینے پرقَدمِ مُبارک رکھا تو ارشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘اور جب تیسرے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو بھی ارشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘ پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: ’’یا رسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سُنی ہے جو پہلے کبھی نہ سُنی تھی۔‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ جبریلِ امین عَلَیْٓہِ السَّلام میرے پاس حاضِر ہوئے اور عرض کی : ’’جس نے رَمَضان کا مہینہ پایا اور اس کی مَغْفِرت نہ ہوئی وہ (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے) دُور ہو۔‘‘ تو میں نے کہا:’’آمین ۔ ‘‘ فَلَمَّا رَقَّیْتُ الثَّانِیَۃَ قَالَ بُعْداً لِّمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ آمِیْن،جب میں نے دوسرے
مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتی احمد یار خان نعیمی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ القوی)اس حدیثِ پاک کے تحت ارشاد فرماتے ہیں :’’یعنی ایسا مُسلمان ذَلیل وخوار ہوجائے جو میرا نام سُن کردُرُود نہ پڑھے ۔عربی میں اس بَددُعا سے مُراد اِظہارِ ناراضی ہوتا ہے حقیقتاً بَددُعا مراد نہیں ہوتی ،مطلب یہ ہے کہ جو بِلا محنت دس رَحمتیں دس دَرَجے دس مُعافیاں حاصل نہ کرے بڑا بے وقُوف ہے۔‘‘ (مراٰۃ، ۲/۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خوفناک کالا سانپ
ایک شخص کا اِنتقال ہوگیا۔ اُس کے لیے قَبر کھو دی گئی تو قَبر میں ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا۔ لوگوں نے گھبرا کر وہ قَبر بند کردی اور دوسری جگہ قَبر کھودی۔ وہاں بھی وہی سانپ موجودتھا۔ تیسری جگہ قَبر کھودی وہی خوفناک کالا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سَیِّدُنا امام حُسین بن علی رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُماسے مَروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزَّت،مُحسنِ انسانیتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَخَطِیءَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّ خَطِیءَ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ جس کے سامنے میرا ذِکرہوا اور اس نے مجھ پر دُرُود پڑھنے میں کوتاہی کی تو وہ جَنَّت کا راستہ بھول گیا۔‘‘(معجم کبیر،مااسند الحسین بن علی …الخ، ۳/۱۲۸، حدیث: ۲۸۸۷)
حضرتِ سَیِّدُنا امام حُسین رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ ، یعنی بَخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذِکر ہوا پھر اس نے مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا۔‘‘(ترمذی،کتاب ‚ الدعوات، باب رغم انف رجل…الخ،۵/۳۲۰ ، حدیث:۳۵۵۴)
دو جہاں کے تاجْوَر،سُلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَبْخَلِ النَّاس، یعنی کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بڑے بَخیل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْواننے عرض کی : ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ضرور بتائیے۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَذٰلِکَ اَبْخَلُ النَّاس،جس کے سامنے میرا ذِکر ہو پھربھی وہ مجھ پر دُرُودِپاک نہ پڑھے تو وہ سب سے بڑا بَخیل ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعا،باب الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ۲/۳۳۲، حدیث: ۲۶۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللّٰہ کی لَعْنَت
حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلامکے پاس سے ایک آدَمی گزرا جس کے پاس ایک ہَرْنی تھی جسے اِس نے شِکار کیا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس ہَرْنی کو قُوَّتِ گویائی عطا فرمائی، ہَرْنی نے عرض کی: ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ج نہیں میں دُودھ پلاتی ہوں ۔ اب و ہ بھوکے ہوں گے۔ اس شِکاری کو حکم فرمائیے کہ یہ مجھے چھوڑ دے تاکہ میں اپنے بچوں کو جا کر دُودھ پلاؤں ، پھر میں واپَس آجاؤں گی۔‘‘حُضُور عَلَیْہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام نے ارشاد فرمایا :’’ اگر تو واپَس نہ آئی تو پھر ؟ ‘‘ہَرْنی نے عرض کی: ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں واپَس نہ آؤں تو مجھ پر اس شخص کی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت ہوجو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر سُنے اور آپ پر دُرُودنہ پڑھے یا اس آدمی کی طرح مجھ پر لعنت ہو جو نماز پڑھے اور دُعا نہ مانگے۔‘‘حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شِکاری کواسے آزاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’میں اس کا ضامن ہوں ۔‘‘ چنانچہ ہَرْنی دُودھ پلا کر واپَس آگئی، پھر حضرتِ جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور عرض کی:’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے مجھے اپنی عِزَّت و جلال کی قسم! میں آپ کی اُمَّت پر اس سے بھی زِیادہ مہربان ہوں جیسے اس ہَرْنی کو اپنی اولاد پر شفقت ہے اور میں آپ کی اُمت کو آپ کی طرف لوٹاؤں گا جیسے کہ یہ ہَرْنی آپ کی طرف لوٹ کرآئی۔‘‘ (القول البدیع، الباب الثالث فی التحذیرمن ترک الصلاۃ علیہ عندمایذکر، ص۳۰۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے جو شخص نام پاک سن کر دُرُودِ پاک نہ پڑھے وہ بَخیل ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت کا مُستحق ہے ہمیں بھی چاہئے کہ جب بھی موقع ملے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھ لیاکریں اور بالخُصوص اگر کسی مجلسِ ذِکر میں شِرکت کی سَعادت نصیب ہو توکچھ نہ کچھ دُرُود کا اِہتمام ضَرور فرمائیے ورنہ روزِ قیامت حسرت ہمارا مُقَدَّر ہوگی ۔ جیسا کہ
باعثِ حسرت مَجْلِس
حضرت سَیِّدُنا ابُوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ نبیِّ رَحمت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :’’ جب لوگ کسی مَجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اپنے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتے ہیں اور نہ اپنے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودپڑھتے ہیں ۔ قیامت کے دن وہ مَجلس ان کے لیے باعثِ حَسرت ہوگی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو بَخش دے۔‘‘ (مسند ا حمد،مسندابی ہریرۃ، ۳/۵۳۳،حدیث۱۰۲۸۱ )
جَنَّت میں داخلے کے باوجود حسرت
حضرت ِ سَیِّدُناابُوسعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ عِبرت نِشان ہے۔ ’’کسی قوم نے کوئی مَجلس قائم کی اور اس میں مجھ پر دُرُود نہ پڑھا تو وہ ان کے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان رِوایات پرغور فرمائیے کہ دُرُودِپاک کے مُعامَلہ میں بُخل کرنے والوں کیلئے کیسی کیسی وعیدیں بیان کی گئی ہیں ۔خُوب غور کریں ، سوچیں اور اِس عادَت سے توبہ کریں ۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلسُنَّت،مُجدِّدِدین ومِلَّت، پروانۂ شمع رسالت الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نامِ اَقدَس سُن کر دُرُود شریف پڑھنے کے بارے میں حکمِ شریعت بیان کرتے ہوئے اپنی مشہور اور مقبولِ زمانہ کتاب ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ جلد6،صفحہ 221پر ارشاد فرماتے ہیں :
نامِ پاک حُضُور پُرنُورسیِّددو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مختلف جلسوں (یعنی مجلسوں ) میں جتنے بار لے یا سُنے ہر بار دُرُود شریف پڑھنا واجب ہے، اگر نہ پڑھے گا گُنہگار ہوگا اورسَخت وعیدوں میں گرفتار ، ہاں اس میں اِختلاف ہے کہ اگر ایک ہی جلسہ (یعنی مجلس )میں چند بار نامِ پاک لیا یا سُنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بارمُسْتحب ہے، بہت(سے) علما قولِ اَوَّل کی طرف گئے ہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں ہرمَجلس میں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکرِ خَیرکرنے کی توفیق عطافرما اورحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامکی ذاتِ پاک پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

0 Comments