Roza Ki Halat Me Marne Ki fazilat

روزہ کی حالت میں مرنے کی فضیلت

اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایَت ہے ، سرکارِ مدینۂ مُنوَّرہ ، سُلطانِ مکّۂ مکرَّمہ   صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا  :   جو روزے کی حالت میں مَرا ، اللّٰہ   تَعَالٰی  قِیامت تک کیلئے اس کے حساب میں روزے لِکھ دے گا۔  (اَلْفِرْدَوْسُ بِمَأثُوْرِ الْخِطَاب ج۳ ص۵۰۴حدیث ۵۵۵۷)

نیک کام کے دوران مرنے کی سعادت 

سبحٰنَ  اللّٰہ     عَزَّ وَجَلَّ    ! خوش نصیب ہے وہ مسلمان جسے روزے کی حالت میں موت آئے۔بلکہ کسی بھی نیک کام کے دَوران موت آنا نہایت ہی اچّھی علامت ہے ۔ مَثَلًا با وُضو یا دورانِ نَماز مَرنا ، سفرِمدینہ کے دَوران بلکہ مدینۂ 
منوَّرہ میں رُوح قَبْض ہونا ، دَورانِ حج مکّۂ مُکرّمہ، مِنٰی، مُزْدَلِفہ یا عَرَفات شریف میں فَوتگی ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرے سفر کے دَوران دنیا سے رخصت ہونا، یہ سب ایسی عظیم سعادتیں ہیں کہ صِرْف خوش نصیبوں ہی کو حاصِل ہوتی ہیں ۔اس سلسلے میں صَحابۂ کِرام عَلَیْھِمُ الرِّضوان کی نیک تمنا ئیں بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا خَیْثَمَہ   رَضِیَ  اللہ   تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں  :    صَحابۂ کِرام عَلَیْھِمُ الرِّضواناِس بات کو پسند کرتے  تھے کہ انتِقال کسی اچّھے کام مَثَلاً حج ، عُمرہ ، غَزوہ (جِہاد) ، رَمَضان کے روزے وغیرہ کے بعد ہو۔ 
Roza Ki Halat Me Marne Ki fazilat
Roza Ki Halat Me Marne Ki fazilat

Post a Comment

0 Comments